غزہ میں اسرائیلی فوج کا بارود سے بھرا ڈرون اپنے ہی اہلکاروں پر گر کر پھٹ گیا، 2 ہلاک

غزہ میں اسرائیلی فوج کا بارود سے بھرا ڈرون اپنے ہی اہلکاروں پر گر کر پھٹ گیا، 2 ہلاک
View on original source
Categoría: Politics
Compartir
Archivo
Me gusta
بارود سے بھرے ڈرون کو حماس کے مبینہ ٹھکانے کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا جا رہا تھا جو اسرائیلی فوجی چوکی پر ہی گر گیا خود اپنے دام میں صیاد آگیا کے مصداق غزہ میں حماس کے خلاف ملٹری آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج کا ایک چھوٹا دھماکا خیز ڈرون اچانک گر کر پھٹ گیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فوجی ترجمان نے بتایا کہ یہ واقعہ غزہ کے شمالی علاقے میں قائم ایک فوجی چوکی پر پیش آیا تھا۔ دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت 24 سالہ ماسٹر سارجنٹ ناداف کالی اور 23 سالہ ماسٹر سارجنٹ اوفیک موئلم کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں یروشلم بریگیڈ کی 7007 ویں بٹالین میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں اہلکار ''اٹلَف'' نامی ایف پی وی ڈرونز آپریٹ کر رہے تھے اور ڈرون نے اپنا پہلا مشن کامیابی سے مکمل کرلیا تھا تاہم دوسری بار اڑان بھرنے کے دوران ہی نامعلوم وجہ سے فوجی چوکی کے اندر ہی گر گیا۔ جس پر فوجی اہلکار گرے ہوئے ڈرون کا معائنہ کرنے کے لیے اس کے قریب گئے اور اسے اٹھایا اور عین اسی وقت بارود سے بھرا یہ ڈرون زوردار دھماکے پھٹ گیا۔ دونوں اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے دھماکا خیز مواد لے جانے والے تمام چھوٹے ڈرونز کی پرواز عارضی طور پر روک دی ہے۔ چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے اپنے تازہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں 968 اسرائیلی فوجی مارے گئے ان میں سے 472 فوجی غزہ میں حماس سے دوبدو جنگ میں ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

(0)Comentarios

 

Una nota sobre las cookies

Newshunt utiliza cookies esenciales para mantener tu sesión iniciada y recordar tu idioma y país, para que el sitio funcione como esperas. Con tu permiso, también nos gustaría utilizar cookies de análisis para comprender cómo las personas utilizan Newshunt y mejorarlo con el tiempo.

Aceptar solo afecta a las cookies de análisis. Para obtener más información, consulta nuestra Política de privacidad or Términos y condiciones.