اوپن اے آئی بے قابو، آسٹریلیا کی سرکاری ویب سائٹ ہیک کرلی

اوپن اے آئی بے قابو، آسٹریلیا کی سرکاری ویب سائٹ ہیک کرلی
View on original source
Catégorie: Technologie scientifique
Partager
Archive
J’aime
آسٹریلوی حکومت نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ نے حکومت کے صحت سے متعلق ایک آن لائن پورٹل میں غیر مجاز رسائی حاصل کی اور وہاں موجود فائلوں تک پہنچنے کی کوشش کی۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر پہلا معلوم کیس ہے جس میں کسی اے آئی ایجنٹ نے کسی سرکاری ویب سائٹ کے حفاظتی نظام کو عبور کیا ہو۔یہ واقعہ آسٹریلیا کے سرکاری میڈیکیئر نظام سے متعلق ایک طبی اعداد و شمار کے پورٹل میں پیش آیا۔ میڈیکیئر آسٹریلیا کا قومی صحت بیمہ پروگرام ہے۔ حکومت کے مطابق اے آئی ایجنٹ وہاں عوامی طبی اخراجات سے متعلق معلومات تلاش کر رہا تھا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا نے اس واقعے پر اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو اوپن اے آئی کی جانب سے اس واقعے کی اطلاع کافی دیر سے دی گئی۔ ان کے مطابق حکومت کو اس بارے میں پہلی اطلاع 10 ستمبر کو ملی جبکہ یہ واقعہ جون میں پیش آیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ سرکاری سکیورٹی نظام اس غیر مجاز رسائی کا بروقت پتا لگانے میں کیوں ناکام رہا۔ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اے آئی ایجنٹ کی سرگرمی سے صحت کے شعبے سے متعلق تین دیگر سرکاری ویب سائٹس بھی متاثر ہوئی ہوں گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان ویب سائٹس میں غیر مجاز رسائی ثابت نہیں ہوئی۔البانیز نے کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق حکومت کے نیٹ ورک میں کسی بڑے پیمانے پر غیر مجاز داخلے کے آثار نہیں ملے، تاہم انہوں نے اس واقعے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی داخلی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مریضوں کے ذاتی طبی ریکارڈ تک رسائی حاصل کی گئی ہو۔ کمپنی کے مطابق اس کے ماڈلز نے آسٹریلیا کی متعدد سرکاری ویب سائٹس اور سروسز سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس دوران ایسے اقدامات کیے گئے جو کمپنی کی جانب سے ارادی طور پر مقرر نہیں کیے گئے تھے۔آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے واضح کیا کہ جس میڈیکیئر پورٹل تک رسائی حاصل کی گئی، اس میں 27 ملین آسٹریلوی شہریوں کے انفرادی طبی دعوے، سرکاری فوائد کی ادائیگیوں کی تفصیلات، بینکنگ معلومات یا مریضوں کی طبی تاریخ موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق پورٹل بنیادی طور پر ملک بھر میں صحت کی سہولیات کے استعمال سے متعلق مجموعی اعداد و شمار فراہم کرتا ہے۔تاہم وزیراعظم البانیز نے کہا کہ معاملہ اس لیے بھی سنجیدہ ہے کہ ویب سائٹ نے اے آئی ایجنٹ کو بعض مقامات پر رسائی سے روکنے کی کوشش کی، مگر ایجنٹ نے ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا طریقہ تلاش کر لیا۔ ان کے مطابق ایجنٹ نے انکار کے بعد بھی اپنی کوشش جاری رکھی۔آسٹریلوی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ یہ ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ حکومت کے موجودہ سائبر سکیورٹی نظام ایسے واقعات کو روکنے اور بروقت شناخت کرنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ایجنٹس کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ روایتی چیٹ بوٹس کے برعکس جدید اے آئی ایجنٹس بعض کام خود انجام دے سکتے ہیں، ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور مختلف ڈیجیٹل نظاموں کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں اوپن اے آئی کے علاوہ اینتھروپک، گوگل کے جیمنی اور میٹا کے اے آئی ایجنٹس سے متعلق بھی بیرونی نظاموں تک غیر مجاز یا غیر متوقع رسائی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔آسٹریلیا میں اے آئی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق یہ واقعہ پہلے سے موجود ٹیکنالوجی پالیسی کے اختلافات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ آسٹریلوی حکومت پہلے ہی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال اور آن لائن مواد کے الگورتھم سے متعلق سخت قوانین متعارف کرا چکی ہے۔کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف ایگزسٹینشل رسک سے وابستہ آسٹریلوی ریاضی دان موریس چیودو نے اس واقعے کو حالیہ اسی نوعیت کے واقعات کے مقابلے میں زیادہ سنگین پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق اے آئی کے حوالے سے نئی قانون سازی پر بحث کے ساتھ موجودہ قوانین، خصوصاً کمپیوٹر سسٹمز میں غیر مجاز داخلے کو جرم قرار دینے والے قوانین، کے مؤثر نفاذ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔آسٹریلوی حکام کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ فی الحال حکومت کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر سرکاری نیٹ ورک متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جبکہ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مریضوں کے ریکارڈ تک رسائی کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔ تاہم یہ واقعہ اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ ایسے اے آئی ایجنٹس کو بیرونی ویب سائٹس اور سرکاری نظاموں تک کتنی آزادی دی جانی چاہیے اور اگر وہ مقررہ حدود سے آگے بڑھیں تو انہیں بروقت روکنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

(0)Commentaires

 

À propos des cookies

Newshunt utilise des cookies essentiels pour vous garder connecté et mémoriser votre langue et votre pays, afin que le site fonctionne comme prévu. Avec votre permission, nous aimerions également utiliser des cookies analytiques pour comprendre comment les utilisateurs utilisent Newshunt et l'améliorer au fil du temps.

Accepter n'affecte que les analyses. Pour en savoir plus, consultez notre Politique de confidentialité or Conditions générales.