کیا شوگر کے مریض انار کھا سکتے ہیں

کیا شوگر کے مریض انار کھا سکتے ہیں
View on original source
Catégorie: Santé
Partager
Archive
J’aime
انار کو عام طور پر صحت کے لیے مفید پھل سمجھا جاتا ہے، لیکن ذیابیطس کے مریض اکثر اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں کہ کہیں اسے کھانے سے بلڈ شوگر نہ بڑھ جائے۔ ماہرین صحت کے مطابق ذیابیطس کے مریض انار کھا سکتے ہیں، تاہم مقدار اور اسے کھانے کا طریقہ بہت اہم ہے۔انار میں قدرتی مٹھاس کے ساتھ فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر مفید غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مناسب مقدار میں اسے ذیابیطس کی غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق انار کا گلیسیمک انڈیکس تقریباً 35 سے 53 کے درمیان بتایا جاتا ہے، جو کم سے درمیانی سطح میں آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مناسب مقدار میں انار کھانے سے بلڈ شوگر عام طور پر بہت تیزی سے بڑھنے کے بجائے نسبتاً آہستہ متاثر ہوتی ہے۔انار کے دانوں میں موجود فائبر ہاضمے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس میں موجود پولی فینول اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس کو کم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔بعض مطالعات میں پولی فینول سے بھرپور غذاؤں کو انسولین کی حساسیت کے حوالے سے بھی مفید قرار دیا گیا ہے، تاہم انار کو ذیابیطس کی دوا یا علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ذیابیطس کے مریض کے لیے انار کی مقدار بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً آدھا کپ، یعنی 80 سے 100 گرام انار کے دانے ایک وقت کے لیے مناسب مقدار ہوسکتے ہیں۔اس مقدار میں تقریباً 15 گرام کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں، اس لیے اسے روزانہ کی مجموعی خوراک میں موجود کاربوہائیڈریٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے شامل کرنا بہتر ہے۔البتہ ہر شخص کی بلڈ شوگر، دوا، عمر اور مجموعی صحت مختلف ہوتی ہے، اس لیے جن افراد کی شوگر قابو میں نہیں رہتی انہیں اپنی غذا میں تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انار کا جوس پینے کے بجائے اس کے دانے کھانا زیادہ بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔ انار کے دانوں میں فائبر موجود ہوتا ہے، جو پھل میں موجود قدرتی شکر کے جسم میں جذب ہونے کے عمل کو نسبتاً سست کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس کے مقابلے میں جوس بنانے کے دوران فائبر کی مقدار کم ہوسکتی ہے اور ایک گلاس جوس میں زیادہ مقدار میں پھل استعمال ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے شوگر نسبتاً تیزی سے بڑھنے کا امکان ہوسکتا ہے۔خاص طور پر بازار میں ملنے والے پیک شدہ جوس، شربت اور انار کے کونسینٹریٹ سے محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ ان میں اضافی چینی شامل ہوسکتی ہے۔اگر بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جارہی ہو تو انار کو کسی ایسی غذا کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے جس میں پروٹین یا صحت بخش چکنائی موجود ہو۔مثلاً انار کے دانوں کو سادہ دہی، بادام یا دیگر گری دار میووں کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کھانے سے صرف پھل پر انحصار کرنے کے بجائے غذا میں دیگر غذائی اجزا بھی شامل ہوجاتے ہیں۔تاہم دہی کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس میں اضافی چینی شامل نہ ہو۔ذیابیطس کے مریض کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ کوئی پھل صحت مند ہے، بلکہ اس کی مقدار، وقت اور کھانے کا طریقہ بھی اہم ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص شوگر کم کرنے والی دوا یا انسولین استعمال کرتا ہے تو اسے اپنی خوراک میں مستقل تبدیلی کرتے وقت بلڈ شوگر کی نگرانی کرنی چاہیے۔انار کھانے کے بعد اگر شوگر معمول سے زیادہ بڑھتی ہوئی محسوس ہو تو اپنی غذا اور مقدار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دوا کی مقدار میں خود سے تبدیلی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ایسا قدم اٹھانا چاہیے۔انار کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر ممنوع پھل قرار دینا درست نہیں۔ مناسب مقدار میں دانوں کی شکل میں انار ایک متوازن غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ذیابیطس کا مریض جتنا چاہے انار کھا سکتا ہے۔بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے مجموعی غذا، ورزش، ادویات اور باقاعدگی سے شوگر چیک کرنا سب اہم ہیں۔ اس لیے انار کو صحت مند غذا کے ایک حصے کے طور پر استعمال کرنا بہتر ہے، نہ کہ ذیابیطس کے علاج کے طور پر۔TUMS کے چانسلر ڈاکٹر محمد اقبال میمن کا اوہائیو یونیورسٹی کا دورہشیخ وامقحرمین شریفین ہماری لائف لائی اور ریڈ لائن ہے، مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں بستا ہو، اس کا دل دو مقامات پر .

(0)Commentaires

 

À propos des cookies

Newshunt utilise des cookies essentiels pour vous garder connecté et mémoriser votre langue et votre pays, afin que le site fonctionne comme prévu. Avec votre permission, nous aimerions également utiliser des cookies analytiques pour comprendre comment les utilisateurs utilisent Newshunt et l'améliorer au fil du temps.

Accepter n'affecte que les analyses. Pour en savoir plus, consultez notre Politique de confidentialité or Conditions générales.