ET

ETV Bharat

'الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا سرمایہ عوام کا بھروسہ ہے، اسے کم نہ ہونے دیں'

Image
صاف ستھری ووٹر لسٹ کے بغیر جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ فوت شدہ ووٹروں کے نام مستقل طور پر ہٹائے جانے چاہیے، ایک ہی شخص کے متعدد بار درج ناموں کو خارج کیا جانا چاہیے، دوسری ریاستوں سے آنے والے لوگوں کی جانکاری کو اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے اور جو لوگ ووٹ دینے کے اہل نہیں ہیں، انہیں لسٹ سے باہر کیا جانا چاہیے۔ اس بات پر کوئی اختلافِ رائے نہیں ہو سکتا۔ لیکن انتخابی ایمانداری کا ایک اور اتنا ہی ضروری پہلو ہے اور وہ یہ ہے کہ— ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے۔ کسی کا نام غلط طریقے سے شامل کرنے یا ہٹانے سے لسٹ کی شفافیت پر اثر پڑتا ہے۔ تقریباً 75 برسوں سے، وقت فوقتاً آنے والے الیکشن کمیشنرز نے اس ذمہ داری کو سمجھا ہے۔ ووٹر لسٹ کی شفافیت برقرار رکھنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ ایک بنیادی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ملک کے جمہوریہ بننے کے بعد سے ہر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز نے اسی ذمہ داری کے تحت کام کیا ہے۔ اس مسلسل چلنے والے عمل نے بھارت کو تمام شہریوں کے ووٹر رجسٹریشن کے ہدف کے بہت قریب پہنچا دیا ہے۔ عام طور پر استعمال ہونے والے پیمانوں کے مطابق یہ تقریباً 99 فیصد ہے۔ ووٹر لسٹ کبھی بھی مکمل طور پر سو فیصد درست نہیں رہی۔ تقریباً ایک ارب لوگوں کا کوئی بھی ڈیٹا بیس ایسا نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان میں مسلسل سدھار کیا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے میں اس پورے عمل کے آغاز سے ہی یہ سوال پوچھ رہا ہوں۔ دہائیوں سے کام کر رہے سسٹم کو اچانک کیوں ترک کیا جا رہا ہے؟ عام طریقہ 'سمری ریویژن' (مختصر جائزہ) اور ساتھ ہی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ ووٹر لسٹ کے کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد سے خاص طور پر اسی طریقے پر عمل کیا جا رہا ہے۔ موجودہ لسٹ ہی بنیاد بنی رہتی ہے۔ نئے ووٹر جوڑے جاتے ہیں۔ مرنے والوں اور ایک ہی نام کے دہراؤ (ڈبل انٹری) کو ہٹایا جاتا ہے۔ گھر بدلنے کی معلومات درج کی جاتی ہیں۔ دعوے اور اعتراضات مانگے جاتے ہیں۔ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) زمینی سطح پر معلومات کی تصدیق کرتے ہیں۔ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) قانونی فیصلے لیتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کو ووٹر لسٹ ملتی ہے اور وہ اپنے بوتھ لیول ایجنٹوں کے ذریعے اس میں حصہ لیتی ہیں۔ یہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔ یہ وہ سسٹم ہے جس کے ذریعے نسلوں سے ووٹر لسٹ کو برقرار رکھا گیا ہے۔ حالانکہ قانون نظرثانی کے الگ الگ طریقوں کو تسلیم کرتا ہے، اور یقیناً ایسے حالات ہو سکتے ہیں جن میں گہرے یا خصوصی عمل کی ضرورت پڑے۔ "سپریم کورٹ نے بھی ایسے عمل کو انجام دینے کے لیے کمیشن کے اختیار کو درست ٹھہرایا ہے۔ لیکن اختیار کا قانونی ہونا بحث کا محض آغاز ہے، اس کا انجام نہیں۔ بڑا سوال ضرورت، پیمانے اور طریقے کا ہے۔ ان ووٹر لسٹوں کا کیا ہوا جنہیں کچھ ماہ پہلے ہی اپ ڈیٹ کیا گیا تھا اور جن کی بنیاد پر انتخابات ہوئے تھے؟ اگر وہ فہرستیں حکومتیں منتخب کرنے کے لیے کافی قابلِ بھروسہ تھیں، تو وہ اچانک اتنی ناقابلِ اعتبار کیسے ہو گئیں کہ لاکھوں موجودہ ووٹروں کو خود کو دوبارہ درست ثابت کرنا پڑا؟ کمیشن نے جو وجوہات بتائی ہیں، ان میں مائگریشن (نقل مکانی)، شہر کاری (اربانائزیشن)، ڈوپلیکیٹ انرولمنٹ (ایک ہی شخص کا کئی بار نام درج ہونا) اور صرف بھارتی شہریوں کا رجسٹریشن، جیسی وجوہات شامل ہیں۔ یہ تمام جائز خدشات ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی بات نئی نہیں ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی لوگ نقل مکانی کرتے رہے ہیں۔ شہری فوت ہوتے ہیں، گھر بدلتے ہیں اور ہر سال 18 سال کے ہوتے ہیں۔ ڈوپلیکیٹ نام بھی سامنے آتے ہیں۔ انتخابی مشینری کو ٹھیک انہی مسائل سے مسلسل نمٹنے کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ انتخابی افسران کی کئی نسلوں نے 30، 40 یا 70 برسوں میں جو کام صبر و تحمل سے کیا ہے، اسے اچانک تین مہینوں میں دوبارہ نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ کسی کے پاس کوئی جادوئی چھڑی نہ ہو۔ اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہوتی۔ اگر کچھ علاقوں میں مشکوک اندراجات نظر آئیں، تو ان کی گہرائی سے جانچ کریں۔ اگر ٹیکنالوجی ممکنہ ڈوپلیکیٹ ناموں کی نشان دہی کرے، تو ان کی تصدیق کریں۔ اگر کسی مشکوک پتے پر سینکڑوں ووٹر نظر آئیں، تو اس کی جانچ کریں۔ اگر ووٹر لسٹ میں غیر ملکی شہریوں کے نام شامل ہونے کے الزامات ہوں، تو ان کی جانچ کریں۔ ایسی معلومات سے تصدیق کے لیے اشارے مل سکتے ہیں۔ لیکن ای آر او کو حقائق کی تصدیق کرنی ہوگی، نوٹس جاری کرنا ہوگا اور طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ شک کو فیصلہ نہیں مانا جا سکتا۔" "تلنگانہ کا معاملہ ہی اب ایک وارننگ ہے کہ کیا غلط ہو سکتا ہے۔ اصلی ووٹروں (زیادہ تر مسلم) کے نام ہٹانے کے لیے پہلے سے بھرے ہوئے 'فارم 7' درخواستوں کی رپورٹ کے بعد، چیف الیکشن آفیسر نے پوری ریاست میں جانچ کے احکامات دیے ہیں۔ حیدرآباد میں ایک ای آر او کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، کیونکہ جانچ میں پایا گیا کہ ایک معاملے میں جن 30 ووٹروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، وہ سبھی اصلی رہائشی تھے۔ فارم 7 کا مقصد کسی شہری کی طرف سے دستخط شدہ ڈیکلریشن (حلف نامے) کی بنیاد پر کسی غلط اندراج پر اعتراض ظاہر کرنا ہے۔ اس کا مقصد کبھی بھی بڑے پیمانے پر لوگوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنا نہیں تھا۔ جو سسٹم نااہل لوگوں کے نام ہٹانے کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں اہل لوگوں کے نام ہٹانے کی منظم کوششوں کو روکنے کے لیے بھی اتنے ہی مضبوط اقدامات ہونے چاہئیں۔ ہر اعتراض کی الگ الگ جانچ ہونی چاہیے۔ ووٹر کو نوٹس ملنا چاہیے اور سماعت کا موقع بھی۔ اور ووٹر لسٹ سے متعلق غلط معلومات دینا 'ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، 1950' کی دفعہ 31 کے تحت جرم ہے۔ ورنہ، لسٹ کو صاف ستھرا بنانے والا سسٹم ہی اسے ختم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ خاص معلومات کی جانچ کرنا اور پورے ووٹر بیس کو ہی شک کے دائرے میں لانا، دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ 'اسپیشل انٹینسو ریویژن' (ایس آئی آر) کے بارے میں مجھے یہی بات سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔ شہری اور انتخابی افسران کے درمیان کا عام رشتہ ہی الٹا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص 10 یا 20 سال سے رجسٹرڈ ہو، اس نے کئی بار ووٹ دیا ہو اور اس کے پاس خود الیکشن کمیشن کا جاری کردہ 'الیکشن فوٹو آئیڈینٹیٹی کارڈ' (ووٹر آئی ڈی) موجود ہو۔ پھر اچانک اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو پرانی ووٹر لسٹ سے میپ کرے یا اپنی اہلیت ثابت کرے، جسے پہلے کمیشن کی لسٹ نے ہی ہر الیکشن میں تسلیم کیا تھا۔" "ایک ایسے نوجوان کے بارے میں سوچیے جو سال 2008 میں 18 سال کا ہوا۔ اس نے سال 2009 کے بعد سے ہر عام انتخاب میں ووٹ دیا ہے۔ اس کا نام سال 2003 کی ووٹر لسٹ میں کبھی نہیں تھا۔ ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ پھر بھی، اب اسے اس لسٹ میں اپنے والدین کے اندراج (انٹری) کے ذریعے خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ اگر اس کے والدین کا انتقال ہو چکا ہو، ان کے نام کے اسپیلنگ غلط ہوں، یا ان کے گاؤں کی پرانی لسٹ نہ مل رہی ہو، تو اس کا بوجھ اسی پر پڑتا ہے، نہ کہ اس سسٹم پر جس نے اسے رجسٹر کیا تھا۔ پچھلی ووٹر لسٹ کا بھی کچھ تو مطلب ہونا ہی چاہیے۔ بڑے پیمانے پر نام ہٹانے کے عمل نے اس تشویش کو اور سنگین بنا دیا ہے۔ ایس آئی آر کے مختلف مراحل میں، ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے 13 کروڑ سے زیادہ نام ہٹا دیے گئے۔ ڈرافٹ لسٹ سے ہٹایا گیا ہر نام فائنل لسٹ سے بھی ہٹ جائے، ایسا نہیں ہے، اور کئی اصلی ووٹر مشکل دعووں اور اپیلوں کے ذریعے واپس آ سکتے ہیں۔ لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کا ہٹنا محض معمولی کلرک کی سطح کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے جیسا نہیں مانا جا سکتا۔ اب خود کمیشن نے اپنے سسٹم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایس آئی آر سے پہلے اور ایس آئی آر کے بعد کی ووٹر لسٹ کا موازنہ کریں اور ان اہل ووٹروں کی شناخت کریں جو لسٹ سے غائب ہو گئے ہیں، تاکہ انہیں واپس لایا جا سکے۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اس سے ایک فطری سوال اٹھتا ہے۔ اگر اصلی ووٹروں کو واپس لانے کے لیے پچھلی ووٹر لسٹ سے موازنہ کرنا ضروری ہے، تو اس لسٹ کو شروع سے ہی بنیادی ڈیٹا کیوں نہیں مانا گیا، اور اسے کوڑے دان میں کیوں پھینک دیا گیا؟ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام کرنے کا فیصلہ کیسے لیا گیا، یہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اسے کیسے انجام دیا گیا۔ کروڑوں ووٹروں پر اثر ڈالنے والے اس کام سے ایک اور سوال اٹھتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اندر یہ فیصلے کیسے لیے گئے؟ آئین نے ایک الیکشن کمیشن بنایا تھا، نہ کہ کسی ایک شخص کا آفس۔ جب یہ کثیر رکنی ادارہ تھا، تو اس کے فیصلے اجتماعی ہونے چاہیے تھے۔ قانون میں بھی یہ التزام ہے کہ کمیشن کو اتفاقِ رائے سے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جہاں اتفاقِ رائے نہ بن پائے، وہاں اکثریت سے فیصلہ لینا چاہیے۔" "اگر یہ خبریں درست ہیں کہ الیکشن کمشنروں نے اہم معاملات پر اعتراضات درج کرائے تھے، تو انہیں صرف آفس کے اندرونی اختلافات کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر الیکشن کمیشن کے نام پر کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے، تو شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اسے اصل میں کمیشن نے منظوری دی تھی یا نہیں۔ یہ اصول تب اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب فیصلوں کا اثر کروڑوں ووٹروں پر پڑتا ہو۔ اس لیے شفافیت کوئی اختیاری ضابطہ نہیں ہے۔ ایجنڈا، میٹنگ کی تفصیلات، درج کی گئی اختلافِ رائے، ہدایات اور اہم فیصلوں کے لیے ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔ اگر ووٹروں کی شناخت کرنے، درخواستوں پر کارروائی کرنے یا بے ضابطگیوں کا پتا لگانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، تب بھی حتمی فیصلے کے لیے ذمہ دار انسانی قانونی افسر کا کردار صاف نظر آنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی جمہوریت میں مدد کر سکتی ہے، یہ جوابدہی کی جگہ نہیں لے سکتی۔ الیکشن کمیشن کے حالیہ اعلانات خوش آئند ہیں، جن میں آئی ٹی سسٹم کی زیادہ ادارہ جاتی جانچ، مضبوط اندرونی طریقہ کار اور ووٹر لسٹ سے چھوٹے ہوئے ووٹروں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اصلاحی کارروائی کو صرف اس لیے خارج نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ دیر سے کی گئی ہے۔ لیکن یہ واقعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ حفاظتی اقدامات شہریوں کو نقصان بھگتنے سے پہلے نافذ ہونے چاہئیں، بعد میں نہیں۔ یہاں ایک اور سبق بھی ہے۔ انتخابی دیانت داری کو اس بات سے نہیں ناپا جا سکتا کہ کتنے نام ہٹائے گئے ہیں۔ ووٹر لسٹ کی شفافیت کا مطلب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہٹانا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب زیادہ سے زیادہ درستگی ہے۔" "نااہل لوگوں کو باہر رکھنا اور ہر اصلی ووٹر کی حفاظت کرنا، یہ دونوں الگ الگ یا مخالف اہداف نہیں ہیں۔ اس توازن نے بھارت کے لیے بہترین کام کیا ہے۔ الیکشن کمیشن حکومت کا کوئی محکمہ نہیں ہے۔ یہ ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے۔ اس کی طاقت صرف دفعہ 324 (ارٹیکل 324)، اس کے وسیع نظام یا ہدایات جاری کرنے کی قوت سے نہیں آتی۔ یہ ایک ایسی چیز سے آتی ہے جو دکھائی تو نہیں دیتی، لیکن بہت قیمتی ہے— یعنی عوام کا بھروسہ۔ کمیشن میں اپنے دورِ ملازمت کے دوران، مجھے اکثر لگا کہ اس کا سب سے بڑا کارنامہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) نہیں تھا، نہ ہی پہاڑوں، ریگستانوں، جنگلوں اور جزیروں میں انتخابات کرانے کا لاجسٹیکل معجزہ، اور نہ ہی دنیا کے سب سے بڑے ووٹر بیس کو سنبھالنے کی صلاحیت۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں کو اس پر بھروسہ تھا۔ بھروسہ بننے میں برسوں لگتے ہیں، لیکن یہ بہت تیزی سے ختم بھی ہو سکتا ہے۔ آگے کا راستہ مشکل نہیں ہے۔ سمری ریویژن (مختصر جائزہ) اور مسلسل اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کو مضبوط بنائیں۔ 18 سال کے نوجوانوں کو باقاعدگی سے رجسٹر کریں۔ گھر گھر جا کر گہرائی سے تصدیق کریں۔ ڈوپلیکیٹ اور بے ضابطگیوں کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ نااہل اندراجات کے بارے میں شکایات کی جانچ کریں۔ نام ہٹانے سے پہلے نوٹس دیں۔ ای آر او کو اپنا قانونی کردار ادا کرنے دیں۔ کمیشن کے فیصلوں کو سچ مچ اجتماعی بنائیں۔ اور قائم شدہ طریقوں سے ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے بارے میں کھل کر بتائیں۔ سب سے بڑی بات، ہر ووٹر کو شک کی نظر سے نہ دیکھیں۔ اس کا مقصد بہت سیدھا اور واضح ہے۔ ہر اہل بھارتی کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے، اور کسی بھی نااہل شخص کا نام اس میں نہیں ہونا چاہیے۔ 75 برسوں سے الیکشن کمیشن یہی کام کر رہا ہے۔ کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے، صرف عوام کا بھروسہ ہے، اور اسے برباد نہیں ہونے دینا چاہیے۔" مضمون کو لکھنے والے ایس وائی قریشی بھارت کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور کتاب 'این ان ڈاکیومنٹڈ ونڈر: دی میکنگ آف دی گریٹ انڈین الیکشن' کے مصنف ہیں۔ (وضاحت: اس مضمون میں جن آراء کا اظہار کیا گیا ہے وہ مصنف کے ذاتی خیالات ہیں۔ یہاں بیان کیے گئے حقائق اور آراء ای ٹی وی بھارت کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔) مزید پڑھیں: 'کیا مودی اور شاہ ملک کے عوام کے خلاف جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں'، دہلی میں غیر معمولی سکیورٹی پر دیپکے کا سوال سپریم کورٹ نے کہا، ہم نے 'فارم-6' میں تبدیلیوں کی منظوری نہیں دی، الیکشن کمیشن سے جواب طلب گیانیش کمار برطرفی کیس: الیکشن کمیشن کے فیصلے متفقہ طور پر نہیں لیے گئے تو لگے گی روک، سپریم کورٹ کا اشارہ کانگریس کا 'ووٹ چوری' کے خلاف ملک گیر مہم کا اعلان، اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا مارچ
'الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا سرمایہ عوام کا بھروسہ ہے، اسے کم نہ ہونے دیں'
View on original source
Partager
Archive
J’aime

(0)Commentaires

 

Opinion liée

À propos des cookies

Newshunt utilise des cookies essentiels pour vous garder connecté et mémoriser votre langue et votre pays, afin que le site fonctionne comme prévu. Avec votre permission, nous aimerions également utiliser des cookies analytiques pour comprendre comment les utilisateurs utilisent Newshunt et l'améliorer au fil du temps.

Accepter n'affecte que les analyses. Pour en savoir plus, consultez notre Politique de confidentialité or Conditions générales.