گیم کنٹرولر سے لیزر ہتھیار آپریٹ امریکا نے ہرمز میں نیا دفاعی نظام تعینات کردیا

گیم کنٹرولر سے لیزر ہتھیار آپریٹ امریکا نے ہرمز میں نیا دفاعی نظام تعینات کردیا
View on original source
카테고리: SciTech
공유
보관함
좋아요
امریکی فوج آبنائے ہرمز میں ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خلاف ہائی انرجی لیزر ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ ان ہتھیاروں کو چلانے کے لیے امریکی فوجی ایکس باکس گیم کنسول سے ملتے جلتے کنٹرولرز استعمال کر رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ جنگ نے تصدیق کی ہے کہ یہ لیزر نظام ڈرونز اور آنے والے کروز میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ ہر ہدف کو روکنے کے لیے الگ میزائل یا کوئی دوسرا جسمانی انٹرسیپٹر استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے بعض حالات میں دفاعی کارروائی کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔یہ ٹیکنالوجی تقریباً 50 سال سے تیار کی جا رہی ہے۔ لیزر نظام جنریٹرز یا بیٹریوں سے توانائی حاصل کرتے ہیں اور اسے روشنی کے ذرات یعنی فوٹونز کی شکل میں ایک انتہائی مرکوز شعاع میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ شعاع ہدف کی سطح پر اتنی حرارت پیدا کرتی ہے کہ ڈرون یا دوسرے ہدف کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا جا سکتا ہے۔دفاعی ماہر مارک نیس کے مطابق لیزر کی شعاع کو ہدف کے ایک خاص مقام پر مرکوز کیا جا سکتا ہے، جس سے ڈرون کے سینسرز کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے یا خود ڈرون کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کی مؤثریت کا انحصار ہدف، فاصلے، موسم اور دستیاب توانائی سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ایکس باکس کنٹرولر کا استعمال بھی اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ جب گیمنگ انڈسٹری نے مؤثر کنٹرولرز تیار کر رکھے ہیں تو ایک بالکل نیا اور مخصوص کنٹرول سسٹم بنانے کی ضرورت کیوں ہو۔ لیزر وارز نیوز لیٹر کے ذمہ دار جیرڈ کیلر کے مطابق بیرونی ماحول میں ان ہتھیاروں کو استعمال کرنا اب زیادہ معنی رکھتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں صرف تجربہ گاہوں تک محدود رکھا جائے۔یہ لیزر نظام میکسیکو میں منشیات فروش گروہوں کے خلاف بھی استعمال کیے گئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں متعدد جنگی بحری جہازوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ابھی تک ایسے لیزر ہتھیاروں کے انسانی اہداف کے خلاف استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی۔دفاعی مطالعات کے ماہر برینٹ زیارنک کا کہنا ہے کہ اگر ان نظاموں میں کافی توانائی فراہم کی جائے تو یہ ایک مؤثر دفاعی نظام بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے بڑی مقدار میں روایتی گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور فوجی رسد کے نظام میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔تاہم مشرق وسطیٰ میں ایسے لیزر ہتھیاروں کو فوجیوں کی پشت پر نصب چھوٹے بیگ کی شکل میں دیکھنے کی توقع فی الحال نہیں کی جا رہی۔ وہاں تعینات نظام بڑے اور بھاری ہیں، اسی لیے انہیں جنگی بحری جہازوں پر نصب کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 'ہیلیوس' نامی نظام 60 کلو واٹ طاقت کی ہائی انرجی لیزر شعاع کو مرکوز کرکے اہداف کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بوئنگ نے 'سی ایل ڈبلیو ایس' نامی ایک کمپیکٹ لیزر ہتھیار بھی پیش کیا ہے، جو گروپ 3 ڈرونز کو نشانہ بنا سکتا ہےامریکی فوج لیزر ہتھیاروں کے پروگرام پر تقریباً 500 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ایسے دفاعی نظام تیار کرنا ہے جو نسبتاً کم آپریٹنگ لاگت کے ساتھ ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔ تاہم لیزر ہتھیاروں کی ابتدائی تنصیب اور بنیادی ڈھانچہ خود مہنگا ہو سکتا ہے. اس لیے کم لاگت کا فائدہ ہر صورت حال میں یکساں نہیں ہوتا۔TUMS کے چانسلر ڈاکٹر محمد اقبال میمن کا اوہائیو یونیورسٹی کا دورہشیخ وامقحرمین شریفین ہماری لائف لائی اور ریڈ لائن ہے، مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں بستا ہو، اس کا دل دو مقامات پر ...

(0)댓글

 

쿠키 안내

Newshunt는 로그인 상태 유지와 언어 및 국가 설정 기억을 위해 필수 쿠키를 사용하여, 사이트가 기대하신 대로 작동하도록 합니다. 동의하시면, 사용자가 Newshunt를 어떻게 이용하는지 파악하고 지속적으로 개선하기 위해 분석용 쿠키도 사용하고자 합니다.

동의는 분석 기능에만 영향을 미칩니다. 자세한 내용은 개인정보처리방침 or 이용약관.