لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2026ء) پاکستان ٹیکس ایڈوائزر زایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹیل سیکٹر کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ایس آر او 1245(1)2026 پر فوری نظرثانی کی جائے کیونکہ بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 30 روپے ایڈوانس ٹیکس عائد ہونے سے سٹیل انڈسٹری بالخصوص فرنس اور ری رولنگ یونٹس پر غیر معمولی مالی دبا ئوبڑھ گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالغفار اور جنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین نے اپنے مشترکہ بیان میںکہا کہ سٹیل سیکٹر پہلے ہی مختلف معاشی اور کاروباری مشکلات سے دوچار ہے جبکہ بجلی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافی بوجھ نے صنعت کے لیے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل سیکٹر کے فرنس اور ری رولنگ یونٹس ماہانہ تقریباً 15 سے 20 لاکھ یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں اس لیے فی یونٹ 30 روپے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں بھاری رقم ادا کرنا صنعتکاروں کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج بن چکا ہے۔ میاں عبدالغفار اور خواجہ ریاض حسین نے کہا کہ بجلی کے بھاری استعمال کے باعث سٹیل یونٹس پر عائد ایڈوانس ٹیکس کی مجموعی رقم انتہائی زیادہ بنتی ہے جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں سٹیل مصنوعات کی قیمتوں، صنعت کی مسابقت اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سٹیل انڈسٹری اور متعلقہ کاروباری حلقوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس آر او 1245(1)2026 کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے حکومتی محصولات کے اہداف بھی متاثر نہ ہوں اور صنعت پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔
(0)댓글
쿠키 안내
Newshunt는 로그인 상태 유지와 언어 및 국가 설정 기억을 위해 필수 쿠키를 사용하여, 사이트가 기대하신 대로 작동하도록 합니다. 동의하시면, 사용자가 Newshunt를 어떻게 이용하는지 파악하고 지속적으로 개선하기 위해 분석용 쿠키도 사용하고자 합니다.
(0)댓글