باکو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے باکو میں منعقدہ آذربائیجان انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فورم کے ایک اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن میں شرکت کی اور علاقائی معاشی استحکام، تجارتی روابط اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر پاکستان کا حکمت عملی پر مبنی موقف پیش کیا۔عالمی مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات نے عالمی معاشی چیلنجز، ایندھن اور بحری مال برداری کی قیمتوں میں اضافے اور روایتی تجارتی راہداریوں کو متاثر کرنے والے جیو پولیٹیکل حالات کا ذکر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے عالمی عدم استحکام کے دوران قومی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کے لیے پیشگی اقدامات کیے ہیں۔ وفاقی وزیرمواصلات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے دوران کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی تجارتی تسلسل کویقینی بنانے کے لیے خود کو ایک غیر جانبدار سفارتی مرکز اور مثبت ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی منفرد جغرافیائی اور معاشی اہمیت کے باعث خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ اور موثر راہداری بن رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہیں عالمی سپلائی چین کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر فعال ہیں اور کراچی پورٹ ٹرسٹ نے گزشتہ مالی سال کے دوران 54.68 ملین میٹرک ٹن سے زائد کارگو کی کامیابی سے ترسیل ممکن بنائی۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سمندری گیٹ وے کے طور پر پاکستان کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس میں قازقستان کے لیے برآمدات 240 ملین ڈالر اور ازبکستان کے لیے 118 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ملکی انفراسٹرکچر کی جدید کاری پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ایم-6 موٹروے، ایم-10 اور ایم این جے سی شاہراہوں جیسے اہم موٹروے منصوبوں کا ذکر کیا جو وسطی ایشیا اور مغربی چین کے لیے تیز ترین اور موثر تجارتی راستے فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے آذربائیجان کے ساتھ سالانہ 1500 روڈ پرمٹس کے تبادلے کا ذکر کیا جو پاکستانی بندرگاہوں کو جنوبی قفقاز اور ٹرانس کاسپین کوریڈور سے براہ راست جوڑتے ہیں۔خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر مواصلات نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، پیپر لیس کسٹمز سسٹمز اور سی پیک کو ای سی او، کیریک اور ایس سی او نیٹ ورکس سے جوڑنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک پائیدار معاشی پل قائم کیا جا سکے۔پینل ڈسکشن میں آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات میکائیل جباروف اور ترکیہ کے وزیر خزانہ و مالیات محمد شمشیک نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ ازبکستان، شمالی مقدونیہ، شام، تاجکستان اور مونٹی نیگرو کے وزرا اور نائب وزرائے اعظم بھی اس اہم مکالمے کا حصہ تھے۔
(0)댓글
쿠키 안내
Newshunt는 로그인 상태 유지와 언어 및 국가 설정 기억을 위해 필수 쿠키를 사용하여, 사이트가 기대하신 대로 작동하도록 합니다. 동의하시면, 사용자가 Newshunt를 어떻게 이용하는지 파악하고 지속적으로 개선하기 위해 분석용 쿠키도 사용하고자 합니다.
(0)댓글