امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور طویل عرصے سے جاری مذاکراتی ڈیڈلاک توڑنے کیلئے مرحلہ وار معاہدے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں.
جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولنے جبکہ امریکا ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کرسکتا ہے۔خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کیلئے مرحلہ وار راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مجوزہ فارمولے کے پہلے مرحلے میں امریکا ایران پر عائد اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے گا اور اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرے گا۔رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں مرکزی معاملہ بن چکی ہے۔ ایران اقتصادی دباؤ میں کمی چاہتا ہے جبکہ امریکا خلیج میں عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے اہم گزرگاہ کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے۔مذاکرات کو ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق پہلے اپنے دباؤ کے ذریعے سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں۔ایرانی حکام کے مطابق طویل جنگ نے ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے جبکہ امریکا کیلئے آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ بحران کے حل کیلئے ایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ معاملات مرحلہ وار طے کیے جائیں.
جس کے پہلے مرحلے میں اقتصادی ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔ ایران کو منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کا معاملہ بھی زیر غور آسکتا ہے۔ دوسری جانب سابق امریکی مذاکرات کار ڈینس راس نے کہا ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات تقریباً 30 فیصد ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کیلئے انتخابات سے قبل معاہدہ کرنے کی اپنی اپنی وجوہات موجود ہیں۔رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مڈٹرم انتخابات کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی اہم سفارتی اور معاشی طاقت کو کسی ٹھوس یقین دہانی کے بغیر چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس لینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا، تاہم علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اس مطالبے کو حتمی معاہدے کے بجائے الگ دستاویز میں رکھنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، کیونکہ اس وقت اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ ایران کی ترجیح بن چکا ہے۔TUMS کے چانسلر ڈاکٹر محمد اقبال میمن کا اوہائیو یونیورسٹی کا دورہشیخ وامقحرمین شریفین ہماری لائف لائی اور ریڈ لائن ہے، مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں بستا ہو، اس کا دل دو مقامات پر ...
(0)댓글
쿠키 안내
Newshunt는 로그인 상태 유지와 언어 및 국가 설정 기억을 위해 필수 쿠키를 사용하여, 사이트가 기대하신 대로 작동하도록 합니다. 동의하시면, 사용자가 Newshunt를 어떻게 이용하는지 파악하고 지속적으로 개선하기 위해 분석용 쿠키도 사용하고자 합니다.
(0)댓글