ET

ETV Bharat

فرانس میں مظاہرے معاشی مستقبل کے خوف اور تشویش کی علامت

Image
فرانس میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اس بار ان کا آغاز ستمبر کے آخر میں ہوا، جب ہائی اسکول کے طلبہ اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے۔ یہ بات حیران کن لگی کہ اسکول جانے والے اتنی بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوں پر آگئے۔ یہ مظاہرے ملک کے جنوب میں واقع شہر مارسیلی سے شروع ہو کر پیرس اور پورے فرانس میں پھیل گئے۔ مختلف مقامات پر نوجوان مظاہرین اور انسداد فساد پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ سرکاری حکام اور وزراء کا ماننا تھا کہ جین لوک مائلینشان کی قیادت میں انتہائی بائیں بازو کی پارٹی 'فرانس انباؤنڈ' ان مظاہروں کو ہوا دے رہی تھی۔ لیکن اصل مسئلے کو حل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، جب کہ حکام نے خود بھی تسلیم کیا کہ فرانس میں 'لیسی' (Lycées) کے نام سے جانے جانے والے ہائی اسکولوں کی حالت خاص طور پر اساتذہ کی کمی کی وجہ سے انتہائی خراب ہے۔ ہفتے کے آخر میں، یہ ملک گیر احتجاج مزید پھیل گیا اور زندگی گزارنے کے اخراجات اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہو گیا۔ اس دوران حکومت نے آنسو گیس اور واٹر کینن (پانی کی بوچھاڑ) کا استعمال کیا۔ اس وسیع احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد بھی دیکھنے میں آیا۔ پیرس میں دکانوں کو لوٹا گیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ، ٹاؤن ہالز جیسی عوامی عمارتوں—جن میں لِل (Lille) شہر کی کچھ تاریخی عمارتیں بھی شامل تھیں—کو نشانہ بنایا گیا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر رہا ہے کہ مظاہرین کا غصہ، بالکل اسی طرح جیسے پہلے طلبہ کا تھا، جائز تھا۔ لیکن صدر ایمانوئل میکرون، جن کی دوسری اور آخری مدتِ صدارت مئی سال 2027 میں ختم ہو رہی ہے، لوٹ مار اور آتش زنی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرتے۔ اتوار کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ "اس کے لیے کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی، کوئی وضاحت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی بہانہ چل سکتا ہے۔ آج رات ہم سب غصہ اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں۔" شدت پسند دائیں بازو کی رہنما اور صدر کے عہدے کی امیدوار مرین لے پین کو شاید لگتا ہوگا کہ احتجاجی مظاہروں کو سنبھالنے میں حکومت کی ناکامی ان کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی، لیکن انہوں نے بھی پرتشدد مظاہروں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "تشدد کوئی رائے نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "توڑ پھوڑ اپنی بات رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ افراتفری فرانس کے لیے مستقبل کا کوئی منصوبہ نہیں ہو سکتی۔" فرانس کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی جڑیں سنہ 1789 کے فرانسیسی انقلاب میں دیکھی جا سکتی ہیں، جب 14 جولائی کو مظاہرین کے ایک ہجوم نے باستیل (Bastille) کے قلعے پر حملہ کر دیا تھا، جہاں سیاسی قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ 14 جولائی کو 'باستیل ڈے' کے طور پر منایا جاتا ہے اور یہ بادشاہت کے خاتمے کی علامت ہے۔ اس لیے جب مارسیلی میں ہجوم میئر کے دفتر میں زبردستی داخل ہوتا ہے اور ایک احتجاجی چلاتا ہے، "یہ انقلاب ہے، ہم باستیل پر قبضہ کر رہے ہیں،" تو ایسا لگتا ہے کہ مظاہرین کے درمیان تاریخ کی ایک ایسی سمجھ جھلک رہی ہے جو شاید پوری طرح درست نہیں ہے۔ فرانسیسی لوگ یورپ کے باقی لوگوں سے کافی مختلف ہیں۔ ان کے لیے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنا بہت فطری بات ہے، جو شاید دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے اتنی عام بات نہیں ہے۔ طلبہ کے احتجاج بھی ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ سنہ 1968 کی گرمیوں میں پیرس میں طلبہ کے مشہور احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جو آج بھی فرانس میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے لیے ایک مثال کی طرح ہیں۔ اس کے علاوہ سنہ 1990، 1998 اور 2006 میں بھی اسکول کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ مزید پڑھیں: فرانس میں تشدد کے لیے مسلمان تارکینِ وطن ذمہ دار نہیں، فرانسیسی صدر نے ٹرمپ اور دیگر کے دعووں کو 'مضحکہ خیز' قرار دے دیا سال 2006 میں طلبہ کے احتجاج نے ہی حکومت کو 'ہائر اینڈ فائر' (نوکری پر رکھنے اور نکالنے) سے متعلق اس قانون کو واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا جسے صدر جیک شیراک کے دور میں پاس کیا گیا تھا۔ فرانس ایک عجیب صورت حال سے دوچار ہے۔ اسے اپنے نوآبادیاتی ماضی کی یادیں عزیز ہیں۔ شمالی اور مغربی افریقہ، اور آج کے جنوب مشرقی ایشیا میں اس کی نوآبادیاں تھیں، جن میں ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس شامل تھے۔ کسی زمانے میں فرانس ایک بڑی یورپی طاقت ہوا کرتا تھا۔ انگریزوں سے بھی کہیں زیادہ، فرانسیسی لوگ خود کو ایک برتر ثقافت اور تہذیب کا حامل مانتے اور اس پر فخر کرتے رہے ہیں۔ برتری کے یہ گہرے نظریات آج کی فرانسیسی معیشت کی حقیقت سے ٹکراتے ہیں، جو یورپ کی معاشی سپر پاور جرمنی سے پیچھے چھوٹ رہی ہے۔ فرانسیسی معیشت کے کئی شعبے مشکلات کا شکار ہیں، چاہے وہ زراعت ہو یا سروس سیکٹر۔ یورپ میں فرانس آج بھی ایک بڑا زرعی ملک بنا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مشہور فیشن انڈسٹری کو بھی اطالوی برانڈز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ کئی لحاظ سے، خود فرانسیسی لوگوں کی نظروں میں فرانس کا وقار گرا ہے، اور وہاں کے زیادہ تر لوگوں کے دلوں میں مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ فرانس کے امیر لوگ تو عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ عام لوگ اپنے مہنگے طرزِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ حقیقی معاشی چیلنجز بھی ہیں جنہیں سیاسی جماعتیں اور رہنما حل نہیں کر پا رہے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح 8.2 فیصد ہے، بجٹ خسارہ 5 فیصد سے زیادہ ہے، اور پنشن جیسی فلاحی ذمہ داریاں ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 57 فیصد حصہ ہیں۔ پنشن کے نظام کو بہتر اور متوازن بنانے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی جاتی ہے۔ فرانس کے کسان یورپی یونین سے ہونے والی زرعی درآمدات کے خلاف تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس صورت حال نے ایک طرح کا معاشی جمود پیدا کر دیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: فرانس، اٹلی سے لے کر البانیہ تک یورپ میں بے چینی کا ماحول، مہنگائی کے خلاف عوام سراپا احتجاج روایتی بائیں بازو اور دائیں بازو کے نظریات میں بٹی ہوئی سیاسی جماعتیں، جو انتہائی بائیں بازو سے لے کر انتہائی دائیں بازو تک پھیلی ہوئی ہیں، اس مشکل حقیقت کا کوئی ٹھوس حل نکالنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں کسی بھی ایک سیاسی دھڑے کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو پاتی۔ اس وجہ سے، ایسے سیاسی اتحاد وجود میں آئے ہیں جو مستحکم یا پائیدار نہیں ہیں۔ ان میں قدامت پسند اور اعتدال پسند جماعتیں، بائیں بازو یا دائیں بازو کے ساتھ جڑنے کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ کئی دوسرے یورپی ممالک کی طرح، فرانس میں بھی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں مضبوط ہو رہی ہیں، جس کی مثال لے پین کی قیادت میں 'نیشنل ریلی' کی نمایاں پوزیشن ہے۔ لیکن لے پین کی پارٹی کے پاس بھی اکثریت نہیں ہے۔ لے پین صدارت کے عہدے کی ایک مضبوط دعویدار ہیں، لیکن نہ تو ان کے پاس اور نہ ہی ان کی پارٹی کے پاس فرانس کے معاشی مسائل کا کوئی عملی حل موجود ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے طلبہ، مزدوروں اور کسانوں کے درمیان معاشی مستقبل کے حوالے سے موجود خوف اور خدشات کی علامت ہیں۔ فرانس کے لوگ غصے میں ہیں۔ فرانس کے ہائی اسکول اسٹوڈنٹس یونین کے سربراہ ریاض رانی نے کہا کہ "حکومت کانپ رہی ہے اور اس کا کانپنا بالکل درست بھی ہے، کیونکہ جب فرانس کے لوگ غصے میں ہوتے ہیں، تو وہ پیچھے نہیں ہٹتے۔" مزید پڑھیں: فرانس پرتشدد احتجاج: 18 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے لیے کرفیو نافذ 'پیرس جلد ہی ایک مسلم شہر بن جائے گا'، ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی کے لیے تارکین وطن کو ذمہ دار ٹھہرایا فرانس میں ہر جگہ آگ ہی آگ، لوٹ مار، پر تشدد احتجاج کی تصویریں فرانس تشدد: مہنگائی اور اسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف پر تشدد احتجاج، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور لوٹ مار، صدر میکرون کا انتباہ
فرانس میں مظاہرے معاشی مستقبل کے خوف اور تشویش کی علامت
View on original source
പങ്കിടുക
ആർക്കൈവ്
ലൈക്ക്

(0)കമന്റുകൾ

 

ബന്ധപ്പെട്ട അഭിപ്രായം

കുക്കികളെക്കുറിച്ചുള്ള ഒരു കുറിപ്പ്

നിങ്ങളെ സൈൻ ഇൻ ചെയ്ത നിലയിൽ നിലനിർത്താനും നിങ്ങളുടെ ഭാഷയും രാജ്യവും ഓർമ്മിക്കാനും Newshunt ആവശ്യമായ കുക്കികൾ ഉപയോഗിക്കുന്നു. നിങ്ങളുടെ അനുമതിയോടെ, ആളുകൾ Newshunt എങ്ങനെ ഉപയോഗിക്കുന്നുവെന്ന് മനസ്സിലാക്കാനും കാലക്രമേണ സേവനം മെച്ചപ്പെടുത്താനും അനലിറ്റിക്സ് കുക്കികളും ഉപയോഗിക്കാൻ ഞങ്ങൾ ആഗ്രഹിക്കുന്നു.

അംഗീകരിക്കുന്നത് അനലിറ്റിക്സിനെ മാത്രമേ ബാധിക്കൂ. കൂടുതൽ വിവരങ്ങൾക്ക് ഞങ്ങളുടെ സ്വകാര്യതാ നയം or നിബന്ധനകളും വ്യവസ്ഥകളും.