ٹیکس نظام میں اصلاحات: ایف بی آر کا نیشنل فیس لیس سینٹر قائم

ٹیکس نظام میں اصلاحات:  ایف بی آر کا نیشنل فیس لیس سینٹر قائم
View on original source
Категория: Financial
Поделиться
Архив
Нравится
ایف بی آر کے مطابق نئے نظام کے تحت ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کے درمیان براہِ راست رابطہ ختم ہوگا، جبکہ ٹیکس کیسز کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ اور رسک بیسڈ نظام کے ذریعے کیا جائے گا، ٹیکس کیسز خودکار طریقے سے ملک بھر کے متعلقہ افسران کو تفویض ہوں گے اور ٹیکس گزار کو کیس پر تعینات افسر کے بارے میں علم نہیں ہوگا۔ حکام کا کہنا تھا کہ کسی افسر کو کیس کے انتخاب یا تفویض میں اختیار حاصل نہیں ہوگا، ہر کیس آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے تین مراحل سے گزرے گا، جبکہ کسی ایک افسر کو ٹیکس گزار کے کیس پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے فیس لیس نظام کے تحت تمام نوٹس، جوابات اور سماعتیں الیکٹرانک طریقے سے ہوں گی اور کیسز ایف بی آر کے آئی آر ایس نظام میں نمٹائے جائیں گے، موقع پر تصدیق اور ٹیکس وصولی کے لیے علیحدہ فیلڈ ٹیم بھی کام کرے گی۔ ایف بی آر کا کہنا تھا نیشنل فیس لیس سینٹر کو قانونی اختیار فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے، جبکہ مرکز کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کریں گے۔ فیس لیس آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے لیے الگ شعبے قائم کیے جائیں گے۔ حکام نے مزید کہا کہ اصلاحات کا مقصد ڈیٹا کی بنیاد پر ٹیکس فیصلوں کا نظام متعارف کرانا ہے، جس سے ٹیکس کارروائی کو مزید شفاف، تیز اور یکساں بنانے میں مدد ملے گی۔

(0)Комментарии

 

Примечание о файлах cookie

Newshunt использует необходимые файлы cookie, чтобы вы оставались авторизованными и чтобы запоминать ваш язык и страну, благодаря чему сайт работает так, как вы ожидаете. С вашего разрешения мы также хотели бы использовать аналитические файлы cookie, чтобы понимать, как люди используют Newshunt, и со временем улучшать его.

Принятие влияет только на аналитику. Подробнее см. в нашей Политике конфиденциальности or Условиях использования.