ET

ETV Bharat

'نتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں'، سات اکتوبر کے واقعات کا انتخابات پر گہرا اثر

Image
نئی دہلی: اسرائیل میں جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، قومی سلامتی کا معاملہ بحث کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔ اسرائیلی عوام سات اکتوبر 2023 کے واقعات سے متعلق سوچ رہے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب حماس نے حملہ کیا تھا، جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ دائیں بازو کی 'لیکوڈ' پارٹی اور انتہائی دائیں بازو کی یہودی جماعتوں کی قیادت کرنے والے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے اسرائیل کی سلامتی کے مسئلے پر مہم چلا رہے ہیں۔ اسرائیلی شہری 'کنیست' (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے تمام 120 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ نتن یاہو خود کو واحد ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جنہوں نے حماس اور ایران کے خلاف کامیاب جنگیں لڑی ہیں۔ تاہم، اس دعوے میں تضاد بھی پایا جاتا ہے، اسرائیل کے کئی ماہرین جن میں فوج کے ریٹائرڈ جرنیل اور عہدیدار شامل ہیں، اسی معاملے پر نتن یاہو پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کا حملہ سکیورٹی کی ایک بڑی ناکامی تھی۔ ان کے مطابق، غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہی حالانکہ نتن یاہو نے بالکل یہی وعدہ کیا تھا۔ مختصراً، یہ انتخابات نیتن یاہو کی عسکری ذہنیت پر ایک ریفرنڈم کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان کے فلسفے کا ماننا ہے کہ اسرائیل صرف فوجی طاقت کے ذریعے کسی بھی حریف کو شکست دے سکتا ہے اور اسرائیل کی پالیسیوں میں سفارت کاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود، اقوام متحدہ کی جانب سے نسل کشی قرار دی گئیں غزہ میں فوجی کارروائیوں کے بعد اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی نیتن یاہو کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھاتی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں (بشمول مشرقی یروشلم) اور اسرائیل کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ خود اسرائیل کے اندر موجود ناقدین کا ماننا ہے کہ غزہ کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکا، اور اسرائیل کی جارحیت کے باوجود حماس کا وجود برقرار ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی عوام اس سکیورٹی ناکامی کی قومی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حماس کا حملہ ممکن ہوا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جسے بہت سے اسرائیلی ایک 'جارحانہ حملے' کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسرائیلی شہری خاص طور پر وہ لوگ جن کے اہل خانہ حماس کے ہاتھوں ہلاک یا اغوا ہوئے، سیکیورٹی کی اس سنگین ناکامی پر احتساب اور وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو اب خود کو ایک مشکل صورتحال میں پاتے ہیں۔ ایک طرف وہ سات اکتوبر کے واقعات کی تحقیقات کے مطالبات کو ٹال رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ خود کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس نے غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی فتح کو یقینی بنایا۔۔۔یہ ایک ایسا دعویٰ جس پر ماہرین اور عام شہری دونوں ہی سوال اٹھاتے آئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گاڈی آئزنکوٹ نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا وہ 'یشار' پارٹی کی قیادت کرنے والے اور نتن یاہو کی جگہ وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں۔ 'دی ٹائمز آف اسرائیل' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو "اسرائیل کی یہودی آبادی کے بنیادی خدشات کا استحصال کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد ان خدشات میں شدت آئی ہے۔ آئزنکوٹ نے 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں ہونے والی جنگ میں اپنے 25 سالہ بیٹے، فوجی گال مائر آئزنکوٹ کو کھو دیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے اس الیکشن میں خوف کا فائدہ اٹھایا ہے اور وہ اسرائیل کو غلط سمت لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو نیتن یاہو کو اس "خوف اور جھوٹ کے کلچر کو برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی جانے چاہیے جو انہوں نے پیدا کیا ہے۔" نیتن یاہو کی کابینہ میں بطور وزیر خدمات انجام دینے کی وجہ سے، آئزنکوٹ کے پاس اس بات کی اندرونی معلومات موجود ہیں کہ نیتن یاہو نے بحران سے کیسے نمٹا۔دریں اثنا، اسرائیل کا مرکزی دھارے کا میڈیا اور اپوزیشن کا ایک بڑا حصہ 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کا حکم دینے سے نیتن یاہو کے انکار پر مایوسی کا شکار ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اس کی تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی ناکامی تھی۔ 'اکتوبر کونسل'—جو 7 اکتوبر کو ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ پر مشتمل ہے—نے حملے کی پہلی برسی پر احتساب کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، "ہمارے لیے، آئندہ انتخابی مہم کا مرکز بھی یہی سوال ہوگا: کیا ریاستِ اسرائیل اس ناکامی کی تحقیقات کرے گی، اس سے سبق سیکھے گی اور اصلاحات کرے گی، یا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سوالات کو بلا جواب چھوڑ دے گی؟" اسرائیلی اخبار 'ہارٹز' کے عسکری تجزیہ کار آموس ہیرل نے تسلیم کیا کہ اسرائیلی فوج اور 'شین بیٹ' (انٹیلیجنس ایجنسی) 7 اکتوبر کے بڑے حملے کے لیے حماس کی صلاحیت کا غلط اندازہ لگانے اور جونیئر افسران کی جانب سے دی گئی تنبیہات کو نظر انداز کرنے کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ تاہم، ان کا مؤقف ہے کہ اس کی بنیادی ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ "اس ناکامی کی بڑی ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 7 اکتوبر سے قبل کے ساڑھے 14 سالوں میں سے 13 سال وہ وزیراعظم رہے، اور ویسٹ بینک اور غزہ کے حوالے سے ان کی 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی بھی اس میں ایک اہم عنصر تھی۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو نے ویسٹ بینک میں فلسطینی اتھارٹی کے خلاف سخت موقف اپنایا جبکہ غزہ میں برسرِ اقتدار حماس کے تئیں نرم رویہ اختیار اختیار کیا۔ 27 اکتوبر کے انتخابات 7 اکتوبر کے واقعات کے سائے میں منعقد ہوں گے، کیونکہ اس سے قبل اسرائیلیوں کا ماننا تھا کہ وہ دنیا کے محفوظ ترین ملک میں قیام پذیر ہیں اور انہیں آئی ڈی ایف اور کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنانے کی اس کی غیر معمولی صلاحیت پر مکمل اعتماد تھا۔ مسلح افواج پر اس اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی 'شین بیٹ' کی 'ناقابلِ خطا' ہونے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات ہیں۔ شین بیٹ اور آئی ڈی ایف دونوں ہی حماس کو ایک کمزور تنظیم سمجھتے تھے اور جب اس نے بڑے پیمانے پر فوجی حملہ کیا تو وہ مکمل طور پر غفلت کا شکار پائے گئے۔ نیتن یاہو کا فوج پر مرکوز عالمی نقطہ نظر اس یقین پر مبنی تھا کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کا نظام ناقابلِ تسخیر ہے۔ اسرائیل کی عسکری طاقت پر یہی حد سے زیادہ انحصار نیتن یاہو کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔ اس کے باوجود، اپنے ضدی مزاج کی وجہ سے، انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی کوتاہیوں اور خامیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ آئزن کوٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیتن یاہو کی سیاست اسرائیل کو کم جمہوری اور کم لبرل بنا دے گی۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایسے خطے میں لبرل جمہوریت کی ایک روشن مثال ہونے پر فخر کرتا رہا ہے جہاں سیاسی نظام بدنامی کی حد تک غیر جمہوری اور آمرانہ رہے ہیں۔ اسرائیلیوں کے لیے، 28 اکتوبر کے انتخابات ملک کی سیاست اور اس کے مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔ (ڈسکلیمر: اس مضمون میں ظاہر کی گئی رائے مصنف کی اپنی ہے۔ یہاں پیش کردہ حقائق اور خیالات 'ای ٹی وی بھارت' کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔) یہ بھی پڑھیں:
'نتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں'، سات اکتوبر کے واقعات کا انتخابات پر گہرا اثر
View on original source
Поделиться
Архив
Нравится

(0)Комментарии

 

Похожие мнения

Примечание о файлах cookie

Newshunt использует необходимые файлы cookie, чтобы вы оставались авторизованными и чтобы запоминать ваш язык и страну, благодаря чему сайт работает так, как вы ожидаете. С вашего разрешения мы также хотели бы использовать аналитические файлы cookie, чтобы понимать, как люди используют Newshunt, и со временем улучшать его.

Принятие влияет только на аналитику. Подробнее см. в нашей Политике конфиденциальности or Условиях использования.