ملک میں مہنگائی کی رفتار میں اضافہ، سالانہ شرح 11.92 فیصد تک پہنچ گئی

ملک میں مہنگائی کی رفتار میں اضافہ، سالانہ شرح 11.92 فیصد تک پہنچ گئی
View on original source
分类: Financial
分享
归档
点赞
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 10.64 فیصد سے بڑھ کر 11.92 فیصد ہوگئی، ایک ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 21 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے بجلی کی قیمت میں 18.76 فیصد، دال مسور 0.75 فیصد، دال چنا 0.34 فیصد اور لہسن کی قیمت میں 1.57 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمت 1.55 فیصد، واشنگ سوپ 0.59 فیصد، مٹن 0.31 فیصد، بیف 0.30 فیصد، چکن 0.72 فیصد، انڈے 2.02 فیصد، دودھ 0.14 فیصد، دہی 0.27 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 0.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران چینی کی قیمت میں 0.23 فیصد، آلو 8.33 فیصد، پیاز 2.42 فیصد، ٹماٹر 13.45 فیصد، سرسوں کا تیل 0.04 فیصد، گڑ 0.01 فیصد، نمک پاوڈر 0.90 فیصد، پٹرول 0.34 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.57 فیصد اور کیلے کی قیمت میں 5.66 فیصد کمی ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 0.85 فیصد اضافے کے ساتھ 9.69 فیصد رہی۔ 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 1.28 فیصد اضافے کے ساتھ 11.37 فیصد، جبکہ 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 9.85 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 0.62 فیصد اضافے کے ساتھ 10.20 فیصد رہی، جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 0.85 فیصد اضافے کے ساتھ 12.31 فیصد ہوگئی۔

(0)评论

 

关于 Cookie 的说明

Newshunt 使用必要的 Cookie 来保持您的登录状态,并记住您的语言和国家设置,以确保网站按预期运行。在您的许可下,我们还希望使用分析类 Cookie,以了解用户如何使用 Newshunt 并不断加以改进。

同意仅影响数据分析功能,欲了解更多信息,请查看我们的 隐私政策 or 条款与条件.