(24نیوز) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے مقامی سولر مینوفیکچرنگ پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گورنر سردار سلیم حیدر نے تیسری بین الاقوامی سولر پاور کانکلیو و سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 س کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے تو ملک میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا، سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم اور قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے، جبکہ صوبائی وزیر توانائی فیصل ایوب نے سولر توانائی کے شعبے کی توسیع کے لیے حکومت پنجاب کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
گورنر پنجاب نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں انرجی اپ ڈیٹ کے زیر اہتمام پاکستان سولر ایسوسی ایشن، رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان اور پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقدہ تیسری بین الاقوامی سولر پاور کانکلیو و سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیئے: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ حکومتی پالیسی کے فقدان کے باعث پاکستان میں سولر سسٹمز کی بڑے پیمانے پر مقامی مینوفیکچرنگ شروع نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں سولر مینوفیکچرنگ کی صنعت قائم کی جائے تو اس سے لاکھوں ملازمتیں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ صاف، سبز اور نسبتاً کم لاگت توانائی بھی دستیاب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام پاکستانی کے لیے شمسی توانائی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وافر دھوپ کی نعمت عطا کی ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور ماحول کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ گورنر پنجاب نے سولر کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتی پالیسی کا انتظار کرنے کے بجائے ملک میں سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے لیے عملی اقدامات شروع کرے۔
گورنر سلیم حیدر خان نے کہا ، سولر صنعت نے ماضی میں بھی محدود حکومتی معاونت کے باوجود پاکستان میں ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، اسی طرح مقامی مینوفیکچرنگ کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر سولر سسٹمز کی تیاری سے نہ صرف ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ پاکستان سولر مصنوعات برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کر سکے گا۔ گورنر پنجاب نے ملک میں سولر پینلز کے تیزی سے بڑھتے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہروں میں بڑی تعداد میں گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز نصب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال اس شعبے میں عوامی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے حکومتوں کی جانب سے سولر توانائی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سندھ حکومت نے مویشی پال کسانوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد میں بڑی تعداد میں سولر پینلز مفت تقسیم کیے ہیں۔ سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ حالیہ علاقائی جنگ کے باعث توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے نتیجے میں ایل این جی کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا، تاہم سولر توانائی کی بڑھتی ہوئی دستیابی مستقبل میں گھریلو صارفین کے لیے مہنگی گرڈ بجلی پر انحصار کم کر سکتی ہے۔
اس تقریب میں پنجاب کے وزیر توانائی فیصل ایوب نے بھی گفتگو کی۔
فیصل ایوب نے کہا کہ پاکستان نے 2009-10 میں بجلی کی شدید قلت اور لوڈشیڈنگ کا سامنا کیا، جس پر ان کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے قائم کرکے قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو بجلی کی قلت سے زیادہ مہنگی بجلی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بجلی کا شعبہ وفاقی دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم پنجاب حکومت مہنگی بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سولر توانائی کے شعبے کی معاونت کرے گی۔ فیصل ایوب نے کہا کہ حکومت سولر توانائی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے وفاقی وزیر توانائی سے رابطہ کرے گی اور پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے گا تاکہ ایسی پالیسی تشکیل دی جا سکے جو پاکستان میں شمسی توانائی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو۔
فیصل ایوب نے توانائی کے ماہرین سے تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سولر شعبے کے فروغ کے لیے تجاویز کا خیرمقدم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلے پر سولر صنعت کی معاونت نہ کی گئی تو اس کے ملکی مفادات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے صدر عادل محمود نے کہا کہ شمسی توانائی اس وقت پاکستان کی توانائی ضروریات میں تقریباً 40 ہزار میگاواٹ تک حصہ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر سولر توانائی کا یہ حصہ موجود نہ ہوتا تو ملک کو روزانہ پانچ سے سات گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ انہوں نے سولر پینلز پر ٹیکس اور دیگر اقدامات کے باعث صنعت کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے بیٹریوں پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ملک میں لیتھیم بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کے پلانٹس قائم کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ مستقبل میں پاکستان بیٹریاں برآمد کرنے کے قابل ہو سکے۔
کانفرنس کے پہلے پینل مباحثے میں لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید ارشد، نیشنل گرڈ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین، گروواٹ پاکستان کے ٹیکنیکل ہیڈ زوہیب الحق اور ٹی بی ای اے وسطی و جنوبی ایشیا کے ریجنل ہیڈ میاں فہد نے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے بدلتے منظرنامے پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر انویریکس سولر انرجی کے سی ای او محمد ذاکر علی نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کے ایک منفرد گروپ میں شامل ہو گیا ہے جہاں شمسی توانائی کا حصہ 25 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں سولر توانائی کی تیز رفتار ترقی بڑی حد تک مارکیٹ کے حالات اور صارفین کی ضروریات کے نتیجے میں ہوئی ہے، نہ کہ کسی جامع حکومتی پالیسی کے تحت۔ ڈاکٹر نوید ارشد نے بیٹری اسٹوریج کو توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم نئی سمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2035 تک پاکستان میں توانائی کی منتقلی موجودہ تقسیم شدہ توانائی کے ماڈل سے آگے بڑھ کر تقسیم شدہ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، مائیکرو گرڈز، عمودی پاور پلانٹس، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس، توانائی کی بچت اور مؤثر استعمال سمیت دیگر شعبوں تک پھیل سکتی ہے۔
دوسرے پینل مباحثے میں فوٹو وولٹک نظام اور سولر بیٹریوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ مباحثے کی میزبانی ڈائریکٹر سسٹین ایبلٹی، ایسور انٹرنیشنل، ڈاکٹر جواریہ شکیل نے کی۔ مباحثے میں دیوان انٹرنیشنل کے حسین دیوان، سی اینڈ آئی انرجی اسٹوریج پاکستان کے ڈائریکٹر جوزف چو، پاور ہائی وے کے چیف ایگزیکٹو محمد فرحان، پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر حسنت خان اور اے ای ایس ایل کے ماروف احمد زبیری نے شرکت کی۔
ڈاکٹر جواریہ شکیل نے صنعت سے وابستہ افراد کو مشورہ دیا کہ سولر توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مناسب وقت اور دستیاب صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے۔ محمد فرحان نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی 5 سے 10 کلوواٹ کی تنصیب رکھنے والے گھریلو صارفین اضافی پیدا ہونے والی بجلی اپنے پڑوسیوں کو فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے سولر آلات کی انشورنس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے قابل تجدید توانائی اور سولر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور اداروں میں تیسری سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 تقسیم کیے۔ تقریب میں قابل تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ تقریباً 30 نمایاں کمپنیوں کو ان کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔
Page 2
Stay tuned with 24 News HD Android App
خون کا رنگ نیلا ، پیلا ، کالا نہیں ہوتا ، سرخ ہوتا ہے ، سرخ ہی رہتا ہے ۔ محاورہ ، خون سفید ہونا سے مراد رگوں میں دوڑتے لہو کی رنگت سے ہر گز نہیں ، اس سے مراد دل میں نرمی یا خلوص باقی نہ رہنا ، محبت، مروت یا اپنائیت کا ختم ہو جانا ، رشتوں اورتعلقات کا احترام یا پاس نہ رہنا اور اپنوں سے دوری یا بے توجہی اختیار کرنا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ معاشرتی و خاندانی اقدار کا دیوالیہ نکل جائے تو رنگ ، نسل ، ذات ، برادری کی پہچان عنقا ہو جاتی ہے ۔ آدمی وفا اور ایفائے وفا کے سب مطالب و معانی بھول کر جانوروں کی سی جبلت اختیار کر لیتا ہے ۔ ہفتہ عشرہ ہوتا ہے کراچی کے علاقے احسن آباد کے ایک فلیٹ سے میاں بیوی اور ان کی 3 بیٹیوں کی لاشیں ملنے کی خبر آئی ۔ صاحب خانہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے ، آبائی تعلق بہاول نگر سے تھا ۔ ڈاکٹر عمر ، ان کی اہلیہ مہوش اور تینوں بیٹیوں کی بے گورو کفن لاشیں 4 پانچ دن تک گھر کے اندر پڑی رہیں ، کسی نے دروازے پر دستک دی نہ موت کے سائے میں لپٹے گھر کے مکینون کی خبر لی ۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کو کافی عرصے بیروزگاری کے بعد حالیہ دنوں نجی اسپتال میں ملازمت ملی تھی ، 9 ستمبر کو اسپتال سے اپنی پہلی تنخواہ لے کر نکلے تو ڈاکووں نے لوٹ لیا ۔ڈاکٹر صاحب اور ان کے اہل خانہ کی موت خبر نہیں ہے ۔ خبر تو یہ ہے کہ کوئی ایک رشتے دار بھی مقدمہ درج کروانے کیلئے نہ آیا کیونکہ مہینوں کی بیروزگاری نے لمحہ لمحہ سسکتی زندگی کی آخری پھانک کا رس تک نچوڑ لیا تھا ۔ بھوک کے ہاتھوں مرنے پر مجبور اہل خانہ نے کچن کے کونوں کھدروں میں پڑے ، مٹی میں اٹے روٹی کے آخری ٹکڑے کو بھی پانی میں بھگو کر کھا لیا تھا ۔ ایسے میں مہینوں فاقوں کا شکار رہنے والے مجبور و مقہور ڈاکٹر صاحب کے پاس زمانہ جدید کے احساس سے عاری ، بے حس اور مردہ بہن بھائیوں ، عزیز و اقارب اور دوست احباب کو دینے کیلئے کچھ بھی تو نہیں بچا تھا ۔ ایک پڑوسی خاتون نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کیلئے گزشتہ ہفتہ گھر کا اوون فروخت کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن اوون تو کسی نے نہیں خریدا البتہ کچھ مالی مدد ضرور کی تھی ۔ آخری سانسیں لینے اور آنکھیں موندنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب ، ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچیوں کو ایک لمحے کیلئے یہ خیال تو ضرور گزرا ہو گا ۔میں کس کے ہاتھ پے اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے المیہ یہ ہوا کہ آج کی نسل اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئی ہے ۔ ان کی دنیا موبائل کے اندر سمٹ گئی ہے ۔ نظر اس حد تک سکڑ گئی کہ 6 انچ کی سکرین یا 10 بائی 10 کے کمرے سے باہر دیکھ ہی نہیں سکتی ۔ آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنے کی عمر میں واٹس ایپ پرعجیب و غریب رسم الخط میں لکھتے ، مافوق الفطرت گیمز کھیلنے والے بچے ہوں ؟ تعلیم کا حصول پس پشت ڈال کر زیادہ سے زیادہ پیسے کی ہوس میں مبتلا ڈگریوں کا ڈھیر جمع کرنے کے شوقین جوان ہوں ؟ حقوق العباد پورے کرنے کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے عام الناس کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے والے طالع آزما حکمران ہوں یا پھرشعبہ ہائے زندگی کے کسی بھی پیشے یا سماجی اور معاشی درجے میں کام کرنے والے منظور نظر افراد ؟ زمانہ حال میں ان سے کسی خیر کی توقع بعید از قیاس ہے ۔ انسانی تخلیق کے اصل مقصد اور معاشرتی اقدار سے بے بہرہ ممی ڈیڈی نسل سے کیسا شکوہ ؟ کیسا گلہ ؟ کہ برقی آلات کی میکانکی دنیا نے جب انسانی احساسات ہی مردہ کر دیئے ہوں تو پھر چلتے پھرتے روبوٹ جذبات کی قدر و قضا کیا جانیں گے ؟آشوب چشم کو عرف عام میں "گلابی آنکھ" کہا جاتا ہے ۔ یہ آنکھ کی بیرونی شفاف جھلی اور پپوٹوں کے اندرونی حصے کی سوزش یا انفیکشن ہے ، آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ، پانی بہنے لگتا ہے ۔ آنکھوں کی سفیدی میں سرخی، شدید جلن ، خارش، چبھن کا احساس اور روشنی کے سامنے آنے پر تکلیف ہوتی ہے ۔ آنکھوں سے پیلا یا سفید چپچپا مادہ نکلتا ہے ، صبح اٹھنے پر آنکھیں بند یا چپکی ہوئی ہوتی ہیں ۔ سوجن کے باعث پپوٹے سوج جاتے ہیں جبکہ تیز روشنی میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ۔ عام زبان میں اسے اچھوت کی بیماری بھی کہا جاتا ہے ۔ ہوا ، پانی ، خوراک یا جراثیم کے ذریعے پھیلنے والی اس وبا سے بچاو کا طریقہ یہی ہے کہ ہاتھوں کو صابن اور پانی سے بار بار دھوئیں ۔ آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں، متاثرہ افراد کے کپڑے ، تولیے ، تکیے ، عینک استعمال نہ کریں ۔ عام طور پر ٹھنڈے پانی سے ٹکور کرنے یا پھر آنکھیں عرق گلاب یا عرق سونف کے دو چار قطروں سے دھونے کا نسخہ بھی مثبت رہتا ہے ۔ بزرگ کہتے ہیں عرقِ گلاب آنکھوں کی جلن دور کرنے اور انفیکشن کو صاف کرنے میں بہترین ہے ۔ صاف روئی کا پھاہا عرقِ گلاب یا عرقِ سونف میں بھگو کر کچھ دیر کے لیے بند آنکھوں پر رکھیں ، افاقہ ہو گا ۔ واضح رہے کہ اس بیماری میں اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کرتیں ، بزرگوں کے آزمودہ اور مجرب ٹوٹکے ہی اس موذی مرض سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں ۔کچھ آج ہی کی خبر کا احوال جانیئے کہ رشتوں کی ناقدر شناسی نے ہماری نوجوان نسل کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے رشتے کے درمیان بھی بے اعتناعی کی ایک خوفناک خونیں لکیر کھینچ دی ہے ۔ ناخلف مگر ممی ڈیڈی کلاس کا نمائندہ بیٹا رشتوں کی تمام تر تقدیس بھول کر مادر پدر آزاد ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) سے پوچھ رہا ہے کہ بوڑھے باپ کو زہر دینے کا کیا طریقہ ہے ؟ بہاولپور کا 17 سالہ نوجوان گرفتار کیا گیا ہے جس نے امریکی ٹی وی سیریز 'بریکنگ بیڈ' ( Breaking Bad ) سے متاثر ہو کر اپنے گھر میں ایک لیبارٹری قائم کر رکھی تھی ۔ بیٹے نے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد منگوایا اور زہر بھی تیار کر لیا تھا ۔ بریکنگ بیڈ ، امریکہ کے جنوبی علاقوں کی ایک مقامی اصطلاح سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "جرم کی دنیا میں قدم رکھنا"، "بدکاری یا قانون شکنی کی راہ اختیار کرنا" یا پھر "ہنگامہ کھڑا کرنا" کے ہیں ۔ موجودہ دور کی اسی درفنطنی نے سیدھے سادھے یا قانون کے پابند نوجوانوں کو فانی دنیا کی ملمع کاری کے جال میں کچھ اس طرح پھنسا دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی راہ پر چلنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ این سی سی آئی اے نے تفتیش کی تو ملزم بیٹے نے بتایا کہ وہ والد کی روک ٹوک سے ناراض تھا ۔ بد بخت نے پہلی ناکام کوشش کے بعد اے آئی سے دوبارہ زہر دینے کے طریقے پوچھے ۔ والد کو5 گرام زہریلی دوا بھی پلا دی، زہر دینے کے بعد اے آئی سے پوچھتا بھی رہا کہ کیا اس کا باپ مر جائے گا ؟ لسان العصر اکبر الہ آبادی نے کئی زمانے پہلے آنے والے اس وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا تھا ۔ کیا خوب کہہ گئے تھے ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں بزرگوں کے آزمودہ اور مجرب ٹوٹکوں کے ذکر پر یاد آیا کہ اپنی تو عمر بھر کی کمائی انہی ٹوٹکوں کی مرہون منت ہے ۔ بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور اب بال سفید ہونے تک ولائتی یا بدیشی نسخہ ہائے زندگی سے پرہیز ہی کیا ۔ ماشااللہ سے اب تک سب دیسی ہی چل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے دل و دماغ میں برکی حرکیات اور لہروں کے بجائے جذبات کا جوار بھاٹا ہی اٹھتا ہے ۔ دل کی دھڑکن جذبات کے زیرو و بم پر چلتی ہے اور احساسات کا ارتعاش دماغی سوچ و فکر کو مہمیز کرتا ہے ۔ جذبات و محسوسات کا یہی عمل زندگی کے نشیب و فراز میں حوصلہ افزائی کرتا ہے ، خیال کو عملی جامہ پہنانے کی تحریک دیتا ہے ، نیرنگی خیال کی یہی مستی شوق آوارگی کو بڑھانے کا سبب بھی بنتی ہے ۔ خیر کا سبب یہ ہے کہ آج تک روح میکانکی ہوئی نہ جسم سنگ مرر کا مجسمہ بنا ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک جمع ایک کو 2 نہیں کہا ، ہمیشہ ایک جمع ایک کو 11 کہا بھی اور سمجھا بھی ۔سال 1978 کا سن تھا ۔ آشوب چشم کی وبا نے لاہور شہر کو کچھ اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ ہر دوسرا گھر اس آسیب میں مبتلا ہو گیا ۔ میرے اپنے بھرے پرے گھر میں ابا جی اور میں بچ رہے تھے ۔ ماں جی ، بہنوں اور بھائی سب نے آنکھوں پر سیاہ چشمے لگا رکھے تھے ۔ ہر طرح کی احتیاط ملحوظ خاطر تھی ، مسئلہ یہ بنا کہ کچن کون سنبھالے ؟ سالن بھوننے کی خوشبو تیکھی اور اشتہا انگیز تو ہوتی ہے لیکن جب پیاز، ٹماٹر، لہسن، ادرک اور روایتی گرم مصالحے کھولتے تیل یا گھی میں پکتے ہیں تو بھناہٹ کے ساتھ اٹھنے والا دھواں نتھنوں سے گزرتا آنکھوں میں شدید جلن اور چبھن بھر دیتا ہے ۔ چولہے کی تپش بھی درد بڑھا دیتی ہے ۔ ایسے میں آشوب چشم میں مبتلا خاتون خانہ کا جلتی انگیٹھی کے روبرو ہونا از حد کہ ناممکن ٹھہرا ۔ میں اس وقت نویں جماعت کا طالبعلم تھا ۔ گھر میں چونکہ میں اور ابا جی ہی بچے تھے ، لہذا چولہا چوکا سنبھالنے کیلئے قرعہ فال میرے نام کا نکلا ۔ سو میں بھی اچھے بچوں کی طرح ماں جی کا ہاتھ بٹانے کیلئے تیار ہو گیا کہ گئے وقتوں کے بچے نخرے نہیں جانتے تھے ۔ بس بزرگوں کی ہاں میں ہاں ملانا ہی ان کا شیوہ تھا ۔ ماں جی کھلے میں بیٹھی ہدایات دیتی جاتیں اور میں کھانا بنانے میں مصروف رہتا ۔ ماں جی کا کہنا ماننے کا فائدہ یہ ہوا کہ انڈا ابالنے سے لے کر ہر قسم کا کھانا بنانے میں مشاق ہو گیا اور آج تک کچن کی محتاجی سے آزاد ہو گیا ۔ سبزی ، دال ، گوشت کی قسم قسم کی ڈش بآسانی تیار کر سکتا ہوں ۔ سادہ چپاتی سے لے کر گول ، چوکور ، پردے والے پراٹھے بنا سکتا ہوں ۔ ابلے چاول سے لے کر پلاو ، بریانی ، زردہ ، حلوہ ، کھیر ، فرنی الغرض کھچڑی کے سوا کچھ بھی تیار کرنے میں مشکل نہیں ۔ ہماری مشرقی روایات ایثار اور قربانی کی پاسداری کا سبق دیتی ہیں ۔ افسوس سب کچھ جذبات و احساسات سے عاری مادی ترقی کی نذر ہو گیا ۔ لکھتے لکھتے لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں رونما ہونے والا دلخراش واقعہ ذہن کی پردہ سکرین پر بجلی بن کر کوند گیا ۔ امریکی شہریت رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے 3 بچوں کو آئس کریم میں چوہے مار زہر ملا کر پلا دیا اور بعد میں زہر کھا کر خودکشی کر لی تھی ۔ خاتون نے اپنے شوہرکو بھی زہر دینے کی کوشش کی تاہم وہ محفوظ رہے ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق امریکہ کی چکاچوند چھوڑ کر پاکستان آنے والی خاتون اس قدر شدید ذہنی مسائل کا شکار تھی کہ اعصابی دباؤ اور نفسیاتی عارضے نے رشتوں کی پہچان ہی ختم کر دی ۔ خاتون نے جنونی کیفیت کے تحت ہی یہ انتہائی قدم اٹھایا جس کے نتیجے میں وہ خود اور ان کے تینوں بچے جان بحق ہو گئے ۔ بلند و بالا عمارتوں کے بند کمروں میں مقید انسان جب کھلے آسمان کو دیکھنے اور کھلی زمین پر چلنے کے اثرات سے محروم ہو جائیں تو اعصابی کشمکش عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔ رشتوں کے درمیان مکالمے کی جگہ موبائل کی چٹ چیٹ آ جائے ، ایک دوسرے کا لمس محسوس کرنے کے بجائے آدمی بے جان لفظوں کے مرکبات ترتیب دینا شروع کر دے تو جان لیجئے انسان مر گیا ہے ، روبوٹ زندگی کی بے جوڑ گاڑی چلا رہے ہیں ۔ تو صاحب ! آشوب چشم میں اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کرتیں ، بزرگوں کے آزمودہ اور مجرب ٹوٹکے ہی اس موذی مرض سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں کیونکہ بزرگوں کے ٹوٹکے نیچر کے قریب تر ہونے کے باعث انسانی زندگی کو حیوانی جبلت سے دور رکھتے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے ، آئیے ! زمانہ حال کی غلطیوں پراستغفار کرتے ہوئے قدرت کے آفاقی قواعد و ضوابط کو گلے لگا لیں ۔ آنے والی نسلوں کی عاقبت سنور جائے گی ۔ حضرت اقبال کہہ گئے موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے
قطرے گرے جو میرے عرق انفعال کے
رہے نام اللہ کا
Page 3
(0)评论