قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ کا مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کا مطالبہ

قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ کا مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کا مطالبہ
View on original source
分类: Politics
分享
归档
点赞
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک بڑی درس گارہ قائداعظم یونیورسٹی کی ایک طلبہ تنظیم نے یونیورسٹی میں جاری انتظامی، تعلیمی اور طلبہ سے متعلق مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مستقل وائس چانسلر کی فوری تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس اور پُرامن احتجاج میں تنظیم قائدین سٹوڈنٹس فیڈریشن (کیو ایس ایف) نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی گذشتہ آٹھ ماہ سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ سربراہ کی پہلی مدت ملازمت 6 جولائی 2026 کو ختم ہوئی تھی جبکہ ان کی بطور قائم مقام وائس چانسلر توسیع بھی 6 اکتوبر 2026 کو ختم ہو چکی ہے۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کی ایک بڑی جامعہ کو شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے تحت مستقل اور جوابدہ قیادت کی ضرورت ہے۔ کیو ایس ایف نے قائم مقام انتظامیہ کے تحت اہم ادارہ جاتی فیصلوں پر بھی اعتراض اٹھایا۔ تنظیم کے مطابق بھرتیوں، ملازمین کے تبادلوں، مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط، اپیلٹ کمیٹیوں کی تحلیل، طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیوں اور مقدمات کے اندراج، ترقیوں اور مختلف منصوبوں کی تقسیم یا ردوبدل جیسے فیصلے ایسے معاملات ہیں جن کے دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طلبہ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ تمام انتظامی اقدامات قانونی اختیارات اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔ اسلام آباد کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں ایک استاد طلبہ کو لیکچر دینے میں مصروف ہیں (انڈپینڈنٹ اردو) طلبہ تنظیم نے یونیورسٹی کے تعلیمی انتظامی ڈھانچے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین میں سے دو ڈینز کے دفاتر، یعنی فیکلٹی آف نیچرل سائنسز اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز، تاحال خالی ہیں۔ ان کے بقول ایک ہی افسر کو بیک وقت متعدد ذمہ داریاں سونپنے کی پالیسی سے انتظامی، رہائشی اور تدریسی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں حکومت یا وزارت تعلیم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کیو ایس ایف نے طلبہ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ یونٹ کو کیمپس سے باہر منتقل کرنے سے طلبہ کو سکیورٹی اور سفری مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں، طلبہ پر عائد بعض فیسوں اور اضافی واجبات پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدامات قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں۔ ان میں پہلے سے رجسٹرڈ طلبہ پر اضافی چارجز، ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ سے ٹرانسپورٹ فیس اور کیمپس سے غیر حاضر طلبہ پر سمر چارجز شامل ہیں۔ طلبہ رہنماؤں نے یونیورسٹی کے ترقیاتی اخراجات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وسیع پیمانے پر باڑ اور دیواروں کی تعمیر پر وسائل صرف کیے جا رہے ہیں جبکہ ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریوں اور دیگر طلبہ سہولیات کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ تنظیم نے یونیورسٹی فنڈز کے شفاف اور جوابدہ استعمال کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس میں طلبہ کے حقوق اور شکایات کے ازالے کے نظام کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ کیو ایس ایف نے طلبہ کو 'غیر قانونی قابضین' اور 'مجرم' قرار دینے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے وقار، قانونی حقوق اور ضابطہ کار کا احترام کیا جانا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق طلبہ کو انتظامی دفاتر تک مؤثر رسائی اور شکایات کے ازالے کا فعال نظام فراہم کیا جائے۔ طلبہ نے ہراسانی اور مبینہ انتقامی کارروائیوں سے متعلق شکایات کے تناظر میں فیکلٹی سطح پر مؤثر ہراسیت اور شکایتی نظام کی عدم موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ کیو ایس ایف کا کہنا تھا کہ ان تمام مسائل کے مجموعی اثرات یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول، انتظامی کارکردگی، ادارے کی ساکھ اور مجموعی پیداواریت کو متاثر کر رہے ہیں۔ تنظیم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور چانسلر سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل کے ذریعے مستقل، اہل اور موزوں وائس چانسلر تعینات کیا جائے۔ طلبہ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قائم مقام انتظامیہ کے دوران کیے گئے اہم فیصلوں کا قانونی حیثیت، طریقہ کار اور قواعد و ضوابط سے مطابقت کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔

(0)评论

 

关于 Cookie 的说明

Newshunt 使用必要的 Cookie 来保持您的登录状态,并记住您的语言和国家设置,以确保网站按预期运行。在您的许可下,我们还希望使用分析类 Cookie,以了解用户如何使用 Newshunt 并不断加以改进。

同意仅影响数据分析功能,欲了解更多信息,请查看我们的 隐私政策 or 条款与条件.