لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2026ء) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)انجم نثار گروپ کے رکن و سابقہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مدثر مسعود چوہدری نے خطے کے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں ہونے کے انکشاف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت کا خاتمہ کیے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی سکیموں کو مالی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے چھوٹے کاروبار، ہنرمندی اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے موثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خظ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے آسان شرائط پر بلاسود قرضوں، فنی تربیت اور کاروباری معاونت کی سہولت فراہم کی جائے۔ غریب خاندانوں کو مستقل آمدن کے ذرائع فراہم کرکے انہیں ملکی معیشت کا فعال حصہ بنانا ہوگا۔ جب تک پسماندہ طبقات کی قوتِ خرید میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جاتے معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ غربت میں کمی کے لیے ایسی پالیسی مرتب کرے جو مستحق خاندانوں کو امداد کا محتاج رکھنے کے بجائے انہیں اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں مدد دے۔انہوںنے کہا کہ خواتین اور نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ملکی معیشت میں بھی کردار ادا کر سکیں۔چھوٹے کاروباروں کے فروغ سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ مستحق خاندانوں کو مستقل آمدن فراہم کرکے غربت کے دائرے سے نکالنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
(0)评论