فیض آباد میں بند کیے گئے ریسٹورنٹس اور دکانیں کھول دی گئیں ہوٹل بدستور بند

فیض آباد میں بند کیے گئے ریسٹورنٹس اور دکانیں کھول دی گئیں ہوٹل بدستور بند
View on original source
分类: Business
分享
归档
点赞
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کے اعلان کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے فیض آباد میں ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔فیض آباد میں انتظامیہ اور پولیس نے مسافر خانے اور ہوٹلز بند کروا دیے جبکہ ہوٹل مالکان نے انتظامیہ کے احکامات پر کاروبار بند کر دیا، دکانوں، ریسٹورنٹس اور پیٹرول پمپس کو بھی بند کرانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ بعد ازاں فیض آباد میں دکانیں اور ریسٹورنٹس کھول دیے گئے جبکہ ہوٹل بدستور بند ہیں۔ذرائع کے مطابق ریسٹورنٹس اور دیگر دکانداروں کو رات 12 بجے تک کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کے زبانی احکامات دیے گئے ہیں، کاروباری مراکز کی بندش کے باعث فیض آباد میں معمول کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جبکہ ہوٹل اور مسافر خانے بند ہونے سے مسافروں کو رہائش اور دیگر سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔فیض آباد میں کاروباری سرگرمیاں بند کرانے کے اقدامات پر تاجروں نے احتجاج کیا، تاجروں کا کہنا ہے کہ ہوٹل پہلے 20 ستمبر کو بھی بند کروائے گئے تھے جبکہ 22 ستمبر کو صرف ایک روز کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی۔تاجروں کے مطابق میچز ہوں یا احتجاج، ہر بار فیض آباد کو بند کرا دیا جاتا ہے. جس سے کاروباری طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے، طویل عرصے تک کاروبار بند رہنے کے باعث دکانوں اور ہوٹلوں کے کرائے، یوٹیلیٹی بلز اور ملازمین کی تنخواہیں پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔تاجروں نے کہا کہ کاروبار کی مسلسل بندش ان کا معاشی قتل ہے. حکومت احتجاج روکنے کے نام پر انہیں کس جرم کی سزا دے رہی ہے؟ فیض آباد میں مسلسل کاروباری بندش سے تاجروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔انتظامیہ کے اقدامات کے باعث مسافروں، ہوٹل مالکان، ریسٹورنٹ مالکان اور دیگر کاروباری افراد کے متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ بعد ازاں دکانیں اور ریسٹورینٹس کھول دیے گئے جبکہ ہوٹل ابھی تک نہیں کھولے گئے۔پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں خصوصاً فیض آباد میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔فیض آباد اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اہم رابطہ ہونے کے باعث سیاسی احتجاج اور ممکنہ آمدورفت کے تناظر میں اہم مقام ہے، اسی وجہ سے ماضی میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کے دوران اس علاقے میں سکیورٹی اور ٹریفک سے متعلق پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ دوسری جانب موجودہ سیاسی صورتحال میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج اور لانگ مارچ کو موخر کیے جانے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے . تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی کی جانب سے باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا۔TUMS کے چانسلر ڈاکٹر محمد اقبال میمن کا اوہائیو یونیورسٹی کا دورہشیخ وامقحرمین شریفین ہماری لائف لائی اور ریڈ لائن ہے، مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں بستا ہو، اس کا دل دو مقامات پر ...

(0)评论

 

关于 Cookie 的说明

Newshunt 使用必要的 Cookie 来保持您的登录状态,并记住您的语言和国家设置,以确保网站按预期运行。在您的许可下,我们还希望使用分析类 Cookie,以了解用户如何使用 Newshunt 并不断加以改进。

同意仅影响数据分析功能,欲了解更多信息,请查看我们的 隐私政策 or 条款与条件.