
ایکسپریس نیوز
IE صفحۂ اول تازہ ترین خاص خبریں کھیل فیکٹ چیک پاکستان انٹر نیشنل ٹاپ ٹرینڈ انٹرٹینمنٹ لائف اسٹائل صحت دلچسپ و عجیب سائنس و ٹیکنالوجی بزنس رائے پاکستان کی بہترین سفارتی پالیسی کے سبب امریکا اور چین دونوں سے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں

امت
فیصل آباد میں جاری ون ڈے کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران فیڈرل ایریاز کے فاسٹ بالرعثمان شنواری نے پنجاب کیخلاف میچ میں عمدہ باولنگ کرتے ہوئے 51رنز دے کر 5وکٹیں حاصل کیں، اس دوران ایک بیٹسمین کو آوٹ کرنے پر ان کے نامناسب رویے کی میچ آفیشلز نے رپورٹ کردی،جس … Read More »

MM News
No Result View All Result Friday, January 9, 2026 ENGLISH پہلا صفحہ تازہ ترین قومی خبریں لائف اسٹائل آپکے ستارے اسکیم دلچسپ و عجیب ڈرامہ انٹر ٹینمنٹ کالمز کاروبار تبصرےاور تجزیے ٹیکنالوجی پاکستان کا دوسرا رخ No Result View All Result پہلا صفحہ تازہ ترین قومی خبریں لائف اسٹائل آپکے ستارے اسکیم دلچسپ و عجیب ڈرامہ انٹر ٹینمنٹ کالمز کاروبار تبصرےاور تجزیے ٹیکنالوجی پاکستان کا دوسرا رخ No Result View All Result ENG پاکستان کا دوسرا رخ ٹیکنالوجی انٹر ٹینمنٹ قومی تازہ ترین اداریہ-کالمز ٹرمپ کی دھمکی: ایران پرحملے کی تیاری ڈاکٹر جمیل احمد خان January 8, 2026 وینزویلا پر چڑھائی: اگلی باری کس کی؟ ڈاکٹر جمیل احمد خان January 5, 2026 سالِ نو اور تیسری عالمی جنگ؟ ڈاکٹر جمیل احمد خان January 2, 2026 روس یوکرین جنگ بندی قریب۔۔۔ تیسری عالمی جنگ سے دوری ڈاکٹر جمیل احمد خان December 29, 2025 عالمی فوجداری عدالت: بین الاقوامی انصاف کا دھوکہ منیر احمد December 28, 2025 شیخ محمد بن زاید کا دورہ پاکستان۔۔۔ محرکات و مفادات ڈاکٹر جمیل احمد خان December 27, 2025 دنیا میں پاکستان کی پذیرائی۔۔۔ مگر فائدہ کیسے حاصل ہو؟ ڈاکٹر جمیل احمد خان December 23, 2025 بھارت کی عیاریاں بے نقاب۔۔۔ پاکستان کو نیا راستہ مل گیا ڈاکٹر جمیل احمد خان December 21, 2025 سرحد پار سے دہشت گردی۔۔۔ بڑا طوفان کیسے ٹلے گا؟ ڈاکٹر جمیل احمد خان December 19, 2025 سڈنی حملے سے بے بنیاد پراپیگنڈے تک: بھارت اور کیا کرسکتا ہے؟ ڈاکٹر جمیل احمد خان December 18, 2025 مزید دیکھیں No Result View All Result پہلا صفحہ تازہ ترین قومی خبریں لائف اسٹائل آپکے ستارے اسکیم دلچسپ و عجیب ڈرامہ انٹر ٹینمنٹ کالمز کاروبار تبصرےاور تجزیے ٹیکنالوجی پاکستان کا دوسرا رخ © Copyright 2024 MMNews - All Rights Reserved.

روزنامہ دنیا
E-paper صفحٔہ اول (current) تازہ ترین آج کا اخبار آج کا اخبار پاکستان ایڈیٹوریل عجائب دنیا دنیا میرے آگے انٹرٹینمنٹ / شوبز کی دنیا کھیلوں کی دنیا جرم و سزا کی دنیا کاروبار کی دنیا آج کے کالمز آج کے کالمز محمد اظہارالحق تلخ نوائی خالد مسعود خان کٹہرا خورشید ندیم تکبیر مسلسل کنور دلشاد ریڈزون سے عمران یعقوب خان ویو پوائنٹ مفتی منیب الرحمٰن زاویہ نظر تمام کالم نگار شہر کی خبریں شہر کی خبریں لاہور کراچی اسلام آباد ملتان فیصل آباد سرگودھا گوجرانوالہ اسپیشل فیچر خصوصی ایڈیشن دنیا فورم میگزین کیمرے کی آنکھ سے رابطہ کریں صفحٔہ اول تازہ ترین آج کا اخبار آج کے کالمز شہر کی خبریں اسپیشل فیچر خصوصی ایڈیشن میگزین رائے دیں Name * City* Email * Phone Message * Add Roznama Dunya to Home ×

بی بی سی اردو
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے امریکی ویزے کے لیے 15 ہزار ڈالر تک کے ویزا بانڈ کی شرط والے ممالک کی تعداد میں اضافہ، بنگلہ دیش اور نیپال بھی فہرست میں شامل امریکی حکام نے اس فہرست میں مزید 25 ممالک کو شامل کر دیا ہے جن کے شہریوں کے لیے امریکہ کے کاروباری یا سیاحتی ویزے کی درخواست دیتے ہوئے 15 ہزار ڈالرز تک کی ضمانتی رقم (بانڈ) جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعلان منگل کو امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں شامل زیادہ تر ممالک براعظم افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا سے بھوٹان، بنگلہ دیش اور نیپال بھی اس کا حصہ ہیں۔ اس منصوبے کا آغاز اگست 2025 میں کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر ایسے ممالک کی فہرست میں صرف موریطانیہ، ساؤ ٹومے اینڈ پرنسپ، تنزانیہ، گیمبیا، ملاوی اور زیمبیا کو رکھا گیا تھا۔ یکم جنوری 2026 سے اس میں مزید ممالک کا اضافہ کیا گیا اور یہ شرط بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نمیبیا اور ترکمانستان پر بھی لاگو کر دی گئی۔ اب امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ مزید 25 ممالک اس فہرست میں شامل کیے جا رہے ہیں جو کہ الجزائر، انگولا، اینٹیگا اور بارباڈوا، بنگلہ دیش، بنین، برونڈی، کیپ وردے، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گبون، آئیوری کوسٹ، کرغزستان، نیپال، نائجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، ٹوالو، یوگنڈا، وانواتو، وینزویلا اور زمبابوے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق جو نئے ملک اس فہرست میں شامل کیے گئے ان کے شہریوں پر بانڈ جمع کرانے کی شرط 21 جنوری سے لاگو ہو گی۔ کس کو کتنے ڈالرز دینے ہیں؟ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ’ان (38) ممالک کے جاری کردہ پاسپورٹ پر سفر کرنے والا کوئی بھی شہری، جو بی ون (کاروباری) یا بی ٹو (سیاحتی) ویزا کے لیے اہل بھی ہو، اسے پانچ ہزار ڈالرز، 10 ہزار ڈالرز یا 15 ہزار ڈالرز کے بانڈ جمع کرانے ہوں گے۔ اور یہ رقم ویزا انٹرویو کے وقت طے کی جائے گی۔‘ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کو ان شرائط سے اتفاق کرنا ہو گا جو آن لائن ادائیگی کے لیے امریکی محکمہ خزانہ کے پلیٹ فارم Pay.gov پر درج ہوں گی۔ End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ’بانڈ جمع کرانے کے لیے کسی تیسری پارٹی کی ویب سائٹ استعمال نہیں کی جا سکتی۔ امریکی حکومت کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے جمع کرائی گئی رقم کی ذمہ دار نہیں ہو گی۔ قونصل افسر کی ہدایت کے بغیر کسی شخص نے بانڈ کی رقم جمع کرائی تو وہ اسے واپس نہیں کی جائے گی۔‘ ’اور جب قونصل افسر بانڈ کی رقم جمع کرانے کا کہے گا تو ادائیگی کے لیے درخواست گزار کو براہ راست ایک لنک بھیجا جائے گا۔ اس لنک پر کلک کر کے رقم جمع کرائی جا سکے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بانڈ کی رقم جمع کرانے کا یہ مطلب نہیں کہ ویزا ملنا یقنی ہے۔‘ بانڈ کا مقصد کیا ہے؟ امریکی حکومت کے مطابق بانڈ کا مقصد یہ ہے کہ جن افراد کو سیاحت یا کاروبار کے لیے ویزے جاری کیے گئے ہیں، انھیں مدت سے زیادہ قیام کرنے سے روکا جا سکے۔ گذشتہ سال جنوری میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت گیر امیگریشن پالیسی اختیار کی تھی۔ اس میں تارکین وطن کو جارحانہ انداز میں ملک بدر کرنا، ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی اور سوشل میڈیا پوسٹس اور پرانی تقاریر کی جانچ پڑتال شامل تھی۔ امریکہ آنے اور جانے کے لیے صرف تین ائیرپورٹس استعمال کرنے کی اجازت امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق بانڈ جمع کرانے والوں پر یہ شرط بھی عائد ہو گی کہ وہ امریکہ آنے اور جانے کے لیے مخصوص ہوائی اڈوں کا استعمال کریں۔ ایسا نہ کیا گیا تو یا امریکہ آنے ہی نہیں دیا جائے گا یا روانگی درست انداز میں درج نہیں ہو گی۔ وہ مخصوص ہوائی اڈے یہ ہیں: - بوسٹن لوگن انٹرنیشنل ائیرپورٹ - جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ - واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ائیرپورٹ کن صورتوں میں بانڈ منسوخ کر دیا جائے گا؟ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر درج شرائط کے مطابق ان صورتوں میں بانڈ خود بخود منسوخ کر دیا جائے گا اور رقم واپس کر دی جائے گی۔ - ویزا رکھنے والا اپنے قیام کی مدت کے اندر ملک چھوڑ دے اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے ریکارڈ میں اس کا اندراج ہو جائے۔ - ویزا رکھنے والا اپنے ویزا کی معیاد ختم ہونے سے پہلے امریکہ کا سفر نہ کرے۔ - ویزا رکھنے والے کو داخلے کی اجازت دیے بغیر امریکی ائیرپورٹ سے ہی واپس بھجوا دیا جائے۔ ویزا بانڈ کی خلاف ورزی ہوئی تو کیا ہو گا؟ اگر ویزا رکھنے والا بانڈ کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا تو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اس کا کیس امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کو بھیجے گا تاکہ تعین کیا جا سکے کہ خلاف ورزی واقعی ہوئی ہے یا نہیں۔ اس میں یہ شرائط شامل ہیں، لیکن معاملہ صرف ان شرائط تک محدود نہیں: اگر ہوم لینڈ سکیورٹی کے ریکارڈ سے معلوم ہو کہ ویزا رکھنے والے نے اپنی مدت سے زیادہ قیام کیا۔ ویزا رکھنے والا مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں رکا رہا۔ ویزا رکھنے والے نے نان امیگرنٹ اسٹیٹس سے باہر نکلنے کی درخواست دی، جیسے کہ پناہ کا مطالبہ کرنا۔

ہماری ویب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ملک کو ’انتہائی مشکل اور خطرناک حالات‘ کا سامنا ہے، اس لیے دفاعی اخراجات کو سال 2027 تک ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر تک کیا جائے۔ یہ بجٹ موجودہ901 ارب ڈالر سے 50 فیصد زیادہ ہوگا، جسے کانگریس نے دسمبر میں منظور کیا تھا۔ - صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس سے ملک کو ’انتہائی مشکل اور خطرناک حالات‘ درپیش ہونے کے سببدفاعی اخراجات کو 1.5 کھرب ڈالر تک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ - وینزویلا کی عبوری صدر نے صدارتی اعزازی گارڈ کے سربراہ جنرل خاویر مارکانو تاباتا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ - صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں کہ جس کے تحت واشنگٹن 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔ - امریکی فورسز نے بحرِ اوقیانوس اور کیریبین میں دو آپریشنز کے دوران وینزویلا کے تیل کی برآمدات سے منسلک دو آئل ٹینکرز کو ضبط کر لیا ہے۔ - سندھ حکومت نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہےجس دوران پنجاب پولیس سے بھی مدد لی جائے گی۔ ’مشکل اور خطرناک وقت‘: صدر ٹرمپ کا 50 فیصد اضافے کے ساتھ امریکی فوجی بجٹ 1.5 کھرب ڈالر کرنے کا مطالبہ

انقلاب
اس دفعہ ان وارڈوں میں کم امید وار مقابلے میں ہیں اس لئے مضبوط پوزیشن رکھنے والے امیدواروں کی راہ آسان دکھائی دے رہی ہے۔ وارڈ نمبر ۴۸؍ میں ۱۶؍ امیدواروں میں ۱۱؍مسلم شامل ہیں۔ اس سے ووٹ تقسیم ہونے کا اندیشہ ہے۔۱۸؍ آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کررہے ہیںجبکہ مجموعی طور پر۹۰؍امیدوار میدان میں ہیں۔ ملاڈ مالونی اسمبلی حلقہ ۱۶۲؍ کے ۸؍میونسپل کارپوریشن وارڈوں میں اس دفعہ امیدوار کم ہیں اس لئے ۸؍ میں سے بیشتر وارڈ میں قسمت آزمائی کرنے والے کئی مضبوط امیدوارہیں۔ الگ الگ وارڈ میں امیدواروں کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔ وارڈ نمبر ۳۲؍ میں ۴؍ وارڈ نمبر۳۳؍ میں۵ ؍، وارڈ نمبر ۳۴؍میں ۱۰؍، وارڈ نمبر ۳۵؍ میں ۱۱؍، وارڈ نمبر۴۶؍میں ۲؍، وارڈ نمبر ۴۷؍میں۹؍، وارڈ نمبر ۴۸؍میں ۱۶؍ اور وارڈ نمبر ۴۹؍میں محض ۳؍ امیدوار ہیں۔ اس طرح ملاڈ مغرب اسمبلی حلقہ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب اتنے کم امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ اس کے برخلاف تمام وارڈوں میں کل مسلم امیدواروں کی تعداد ۱۹؍ ہے اور اس میں سب زیادہ ۱۱؍ مسلم امیدوار وارڈ نمبر ۴۸؍ میںہیں۔ اس صورتحال سے ووٹ تقسیم ہونے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔اسی طرح اگر ان وارڈوں میں آزاد امیدواروں کی تعداد پیش نظر رکھی جائے تو وارڈ نمبر ۳۳؍ میں ایک ، وارڈ نمبر ۳۴؍ میں دو ، وارڈ نمبر۳۵؍ میں ۵؍، وارڈ نمبر ۴۷؍ میں ۴؍اور وارڈ نمبر ۴۸؍میں ۶؍آزاد امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔وارڈ نمبر۴۸؍میں ہی سب سے زیادہ ۱۶؍امیدوار ہیں جن میں۱۱؍مسلم ہیں۔ رائے دہندگان کیا کہتے ہیں؟ الگ الگ وارڈ میں رائے دہندگان سے بات چیت کرنے پر رائے دہندگان نے جو کچھ کہا وہ اس طرح ہے: وارڈ نمبر۳۳؍ میں رہنے والے عبدالعلیم انصاری نے کہا کہ ’’معلوم ہوا ہے کہ ہمارے وارڈ میں ۵؍ امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ یہاں جو امیدوار مضبوط ہوگا اسے زیادہ محنت نہیں کرنی ہوگی ، آسانی سے وہ جیت جائے گا۔ دوسرے ووٹ بھی تقسیم ہونے کا اندیشہ کم ہے۔‘‘وارڈ نمبر ۴۸؍ میں رہنے والے عبدالرب انصاری نے بتایا کہ ’’لوگ کہہ رہے ہیں کہ سب سے زیادہ امیدوار مالونی حلقے میں اسی وارڈ میں ہیں اور اسی میں سب سے زیادہ مسلم امیدوار بھی ہیں اور مسلم ووٹروں کی بھی اکثریت ہے۔ اس لئے یہ خطرہ ہے کہ کہیں کئی مسلم امیدواروں کے آپس میں ٹکرانے سے کوئی اور بازی نہ مار لے ۔ اس لئے کہ ووٹ تو آخر مسلمانوں کے ہی بٹیں گے ۔ مگرسبھی امیدوار ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔‘‘ وارڈ نمبر۴۶؍ میں رہنے والے رام جی کنوجیا نے بتایا کہ ’’ہمارے وارڈ میں تو صرف بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان مقابلہ ہے اور محض ۲؍ امیدوار ہیں۔ ایسے میں نہ تو کوئی مسئلہ ہوگا نہ ہی ووٹ بٹیں گے۔ ‘‘ وارڈ نمبر ۴۹؍ میں محض تین امیدوار ہیں۔ یہاں رہنے والے عبدالغفور انصاری نے بتایا کہ امیدوار کم ہونے سے تینوں کی جانب سے زوردار مہم چلائی جارہی ہے، دیکھنا ہوگا کون بازی مارتا ہے اور عوام کو اپنے پالے میں کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔‘‘ وارڈ اور امیدواروں کے نام وارڈ نمبر۳۲؍ میں سیرینا زیکو کینی ، گیتا کرن بھنڈاری، منالی اجیت بھنڈاری اور روپالی بی سنگھ۔وارڈ نمبر ۳۳: ساریکا سندیپ پارٹے، اجولا پرمود ویتی، قمر جہاں معین صدیقی، نوشین رفیق خلیفہ اور راجیہ شری جتیش مانجریکر۔وارڈ نمبر ۳۴: اَبراہم، کاشف رضا حیدر زیدی، جان ڈینس، وکاس دشپوتے، وجے سدھاکر مہاڈک، حیدر علی اسلم شیخ، جینیش شیش منی مشرا، عاقب شیخ، اکبر محمد علی شیخ اور ارباز اسلم شیخ۔ وارڈ نمبر ۳۵: وینوگوپال، دیپک داول مورے، ورما یوگیش راج بہادر، پراگ سریش چندر شاہ، کپل دیو کہار، اے ایس کمار، آتش سمپت کامبلے، جیراج کرن والا، ابھیشیک بخشی، آیوش دلیپ سنگھ ، گنیش باڑو سوناؤنے۔ وارڈ نمبر ۴۶: یوگیتا سنیل کولی اور دہلیکر اسنہیتا سندیش۔ وارڈ نمبر ۴۷: وینو گوپال، گنیش شنکر گرو، شیٹی بھکتی ناتھن آروکی سوامی، تیجیندر ستنام سنگھ تیوانا، پرمیندر سنگھ بھامرا، رمیش کمار، راجا ارومگم کونڈیر، فاطمہ انیس شیخ اور بھوپیش ستیہ وان سوناؤنے۔ وارڈ نمبر ۴۸: المیلکر سلمیٰ سلیم، سریل پیٹر ڈیسوزا، لارزی ورگیز، ایڈوکیٹ گنیش شندے، محسن قاسم شیخ، رفیق الیاس شیخ، قریشی نصیرالدین علاء الدین ، رضوانہ خان، شیخ محمد اسماعیل، ایڈوکیٹ شیخ سعید، نریندر رمن لال پرمار، پریتی باگڑے، ارباز اسلم شیخ، محمد عرفان شیخ، شیخ یاسین عبد المجید اور سید ذوالفقار عالم۔وارڈ نمبر۴۹: کولی سنگیتا چندرکانت، سمترا درشن مہاترے اور سنگیتا سنجے ستار۔

انڈیپنڈنٹ اردو
افغانستان میں طویل عرصے سے مشکلات کا شکار 'افغان کک باکسنگ' کے لیے ایک نیا باب کھل گیا جب انٹرنیشنل کک باکسنگ فیڈریشن نے افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے مستقل رکنیت دے دی ہے۔ کابل سے جاری ایک بیان کے مطابق محمد شیر ہاشمی کو فیڈریشن کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں سے افغان کک باکسنگ فیڈریشن بین الاقوامی سطح پر باضابطہ رکنیت سے محروم تھی، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو نہ صرف فنڈنگ اور سہولیات کی کمی کا سامنا رہا بلکہ وہ اکثر بین الاقوامی مقابلوں اور غیر ملکی دوروں سے بھی محروم رہے۔ افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن دراصل افغانستان میں کک باکسنگ کے کھیل کی مرکزی اور باضابطہ نگران تنظیم ہے، جو اس کھیل کے فروغ، کھلاڑیوں کی تربیت اور قومی و صوبائی سطح پر مقابلوں کے انعقاد کی ذمہ دار ہے۔ یہ فیڈریشن جنرل ڈائریکٹوریٹ آف اولمپک، فزیکل ایجوکیشن اینڈ سپورٹس کے تحت کام کرتی ہے، جس کے باعث اسے سرکاری سطح پر انتظامی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی رکنیت طویل عرصے تک معطل رہی، تاہم اس کے باوجود فیڈریشن نے ملکی سطح پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ گذشتہ چند برسوں میں افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن نے اپنی فعالیت کو منظم انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ ہر سال قومی سطح پر سلیکشن چیمپئن شپ منعقد کی جاتی رہی، جن میں افغانستان کے تیس سے زائد صوبوں کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں۔ دسمبر 2025 میں کابل میں منعقد ہونے والی 12ویں نیشنل کک باکسنگ سلیکشن چیمپئن شپ میں 180 کھلاڑیوں کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ یہ کھیل ملک بھر میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ اسی تسلسل میں جنوری 2026 کے آغاز میں منعقد ہونے والے قومی ٹورنامنٹ میں صوبہ سمنگان نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جس نے صوبائی سطح پر بھی مسابقتی ماحول کو اجاگر کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی افغان کک باکسنگ ٹیم مکمل طور پر غیر حاضر نہیں رہی۔ محدود وسائل کے باوجود افغان کھلاڑی مختلف مواقع پر جرمنی میں ہونے والی ڈبلیو اے کے او (WAKO) ورلڈ چیمپئن شپ اور ایران میں منعقدہ ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان شرکتوں کی حیثیت مستقل اور ادارہ جاتی نہیں تھی، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی فیڈریشنز میں باضابطہ رکنیت کا فقدان تھا۔ اسی پس منظر میں جنوری 2026 میں افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو انٹرنیشنل کک باکسنگ فیڈریشن (IKF) کی مستقل رکنیت کا ملنا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے۔ آئی کے ایف، جو 1992 میں قائم ہوئی اور جس کا ہیڈ کوارٹر نیو کیسل، کیلیفورنیا (امریکا) میں واقع ہے، دنیا بھر میں کک باکسنگ اور 'موئے تھائی' کے کھیلوں کو منظم کرنے والی بڑی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ ادارہ شوقیہ اور پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے محفوظ اور منصفانہ قوانین مرتب کرتا ہے، سالانہ دو ہزار سے زائد مقابلوں کی منظوری دیتا اور IKF ورلڈ کلاسک جیسے عالمی شہرت یافتہ ایونٹس کا انعقاد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ادارے کی رکنیت حاصل ہونا افغان کک باکسنگ کے لیے بین الاقوامی سطح پر مستقل شرکت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو حکومتی سرپرستی حاصل رہی، جس کے نتیجے میں اسے قانونی اور انتظامی استحکام ملا اور وہ بین الاقوامی تنظیموں سے باضابطہ رابطہ کرنے کے قابل ہوئی۔ کھلاڑیوں کے بیرون ملک دوروں، ویزوں کے حصول اور ایران و جرمنی جیسے ممالک میں ٹورنامنٹس میں شرکت کے لیے مالی اور لاجسٹک سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ اسی طرح کابل اور دیگر صوبوں میں مسلسل قومی مقابلوں کا انعقاد، خصوصاً دسمبر 2025 کی بڑی چیمپئن شپ آئی کے ایف کے لیے اس بات کا عملی ثبوت بنا کہ افغان فیڈریشن فعال، منظم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کے حکام اور نیشنل اولمپک کمیٹی نے عالمی کھیلوں کی تنظیموں سے رابطے برقرار رکھے اور افغان کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی دروازے کھلے رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مختلف صوبوں میں تربیتی کیمپوں کی اجازت بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ رہی، تاکہ کھلاڑی آئی کے ایف کے معیار پر پورا اتر سکیں۔ یوں جنوری 2026 میں افغان نیشنل کک باکسنگ فیڈریشن کو آئی کے ایف کی باضابطہ رکنیت ملنا محض ایک انتظامی کامیابی نہیں، بلکہ دو دہائیوں پر محیط محرومی کے بعد افغان نوجوانوں کے لیے عالمی کھیلوں کے میدان میں ایک نئی امید کی علامت ہے۔

آج
گرین لینڈ کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے دنیا کو خبردار کردیا سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کی برف کی تہہ تیزی سے پگھل رہی ہے اور یہ عمل مستقبل میں دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برف کی موجودہ پگھلنے کی رفتار سمندر کی سطح میں اضافے کے امکانات کو بڑھا رہی ہے، جس سے دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق گرین لینڈ کی برف کی تہہ کے بڑے حصے ماضی میں مکمل طور پر پگھل چکے ہیں اور اب کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث یہ دوبارہ ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ آئس شیٹ کے ایک بلند مقام پر کی گئی کھدائی کے نمونوں سے پتا چلا کہ برف گزشتہ 10 ہزار سالوں میں غائب ہو چکی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ میں انسانی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اور عنصر بھی برف پگھلنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اوٹاوا یونیورسٹی کے محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مطابق گرین لینڈ کی زیرِ زمین گہری اور ناہموار گرمی برف کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ سائنسدانوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا، سیسمک ریڈنگ، کشش ثقل کی پیمائش اور کمپیوٹر سمیلیشنز کے ذریعے بنائے گئے 3D درجہ حرارت کے ماڈلز کا استعمال کیا۔ ان ماڈلز سے معلوم ہوا کہ برف کے نیچے کی بنیاد کچھ جگہوں پر دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ گرم ہے، جس کی وجہ سے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برف کے تیزی سے پگھلنے کا مطلب ہے کہ سمندر میں اضافی پانی شامل ہو رہا ہے، جو سمندری سطح میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح میں اضافہ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے ساحلی شہروں پر محسوس ہوں گے۔

Urdu News
’خوشگوار سرپرائز ہے‘، برفباری کے بعد ایفل ٹاور پر سیاحوں کا رش ’خوشگوار سرپرائز ہے‘، برفباری کے بعد ایفل ٹاور پر سیاحوں کا رش جمعرات 8 جنوری 2026 10:15 فرانس کے دارالحکومت پیرس میں برفباری کے بعد ایفل ٹاور کا نظارہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں برفباری کی توقع نہیں تھی، اس لیے یہ ایک خوشگوار سرپرائز ہے اور بڑا بھلا منظر ہے۔‘

Daily News
پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی سرگرمی دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔صوبائی حکومت نے بسنت منانے کی مشروط اجازت سے متعلق آرڈیننس جاری کردیا ہے، جس پر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے دستخط بھی کر دئیے۔ 2001 میں لگنے والی پابندی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بسنت کو باضابطہ طور پر قانونی حیثیت دی گئی ہے۔آرڈیننس کے مطابق بسنت اور پتنگ بازی کے لیے متعدد سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے اور ایسی صورت میں والدین یا سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔ پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار اور دوسری بار 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا۔پتنگ بازی کے دوران صرف دھاگے سے بنی روایتی ڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی۔بسنت کے دوران موٹر سائیکل سواروں کیلئے خصوصی حفاظتی اصول بھی مقرر کیے گئے ہیں جن پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ پولیس کو مشکوک گھروں اور مقامات کی تلاشی کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جبکہ جرم کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں پتنگوں اور ڈور کی فروخت کیلئے رجسٹرڈ دکاندار ہی مجاز ہوں گے۔ڈور اور پتنگ بنانے والوں کی بھی رجسٹریشن ہو گی۔پتنگ بازی ایسوسی ایشنز کو اپنے اپنے اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹر ہونا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آرڈیننس پر کس حد تک عمل ہوتا ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں پنجاب اسمبلی نے پتنگ بازی پر مکمل پابندی کا بل منظورکیاتھاجس کے تحت خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا تھا۔پنجاب میں پتنگ بازی کی ممانعت کا ترمیمی ایکٹ 2024 منظور کیا گیا جس کے مطابق پتنگ بازی ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا جبکہ خلاف ورزی پر کم از کم 3 سال سے 7 سال تک قید کی سزا کا تعین کیا گیا۔ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق پتنگ بازی، تیاری، فروخت و نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔پتنگ بازی سے متعلقہ مواد کی تیاری اور نقل و حمل پر مکمل پابندی تھی۔ پتنگ اڑانے والے کو 3 سے 5 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں تھیں۔ پتنگ ساز اور ٹرانسپورٹر کو 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں تھیں۔ پتنگ بازی میں ملوث بچے کو پہلی بار 50 ہزار جرمانہ اور دوسری بار لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا۔ گزشتہ دنوں میرے بڑے بھائیوں جیسے دوست ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈی ایچ اے بریگیڈیئر (ر)محمد شفیع غازی اور چیئرمین ٹیوٹا بریگیڈیئر(ر) محمد ساجد کھوکھرمیری نواسی کی پیدائش پر مبارکباد دینے میرے گھر تشریف لائے تو مجھے پتنگ بازی پرپہلی بار پابندی کا وقت یادآگیا۔ بریگیڈیئر(ر) محمد شفیع غازی سے ربع صدی پر محیط میرا تعلق اس وقت سے ہے جب وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ضلع لاہور کے ساتھ ساتھ پنجاب کے بھی چیف کوآرڈینیٹرتھے۔تب وہ لیفٹیننٹ کرنل تھے۔ شہر لاہورکے چیف ایگزیکٹو کیلئے لیفٹیننٹ کرنل محمد شفیع غازی کاحسن انتخاب ہوا اور نومبر1999 میں انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالا۔بعد ازاں وہ صوبہ پنجاب کی حکومت کے چیف کوآرڈینیٹر بھی بنے۔ جب نومبر1999 میں وہ لاہور کے چیف ایگزیکٹومقرر ہوئے تو شہر لاہور میں ناصرف بسنت بلکہ ہر ویک اینڈ اور سرکاری چھٹی کے دن پتنگ بازی کارواج بہت عام تھالیکن دھاتی ڈور کے استعمال کے باعث یہ شوق ایک خونی کھیل بن چکا تھا، آئے روز شہریوں کی گردن اور گلے کٹ رہے تھے۔ بریگیڈیئرمحمد شفیع غازی نے بطور چیف ایگزیکٹوڈپٹی کمشنرلاہور سے پچھلے پانچ سال کا ڈیٹا نکلوایا تو ہر سال پچیس سے تیس معصوم انسان پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی دھاتی ڈور کاشکار ہو کر ناحق موت کے منہ میں جارہے تھے۔ایک دن فیروز پور روڈ پر ایل او ایس کے قریب قاتل دھاتی ڈور سے ایک ساتویں کلاس کی بچی جواپنے باپ کیساتھ موٹر سائیکل پر گھر جارہی تھی کی گردن کٹ گئی اور موقع پردم توڑ گئی۔بچی کے ورثا اور محلے داروں نے شدید احتجاج کیا اور فیروز پور روڈ بلاک کردیا۔لیفٹیننٹ کرنل (بریگیڈیئر)محمد شفیع غازی خود موقع پر پہنچے اور مظاہرین کوپتنگ بازوں کیخلاف فوری کارروائی کی یقین دہانی کروا کر احتجاج ختم کروایا اور اسی دن دھاتی ڈور کے استعمال پرپابندی عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ بریگیڈیئر (ر) محمد ساجد کھوکھر نے بھی انکے اس اقدام کو بے حد سراہا۔ بریگیڈیئر (ر) محمد شفیع غازی پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ملک وقوم اور انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے طویل عرصہ پاک فوج میں گزار کر قومی خدمات بخوبی سرانجام دیں۔4اپریل 2014 کوبریگیڈیئر محمدشفیع غازی کو ان کی شاندار ملکی،قومی اور فوجی خدمات ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔اس سے پہلے سال 1988میں سیاہ چین کے محاذپراعلیٰ کارکردگی پرانہیں صدرپاکستان کی طرف سیامیتازی سند سے بھی نوازا گیاتھا۔وہ غازی تھے اور غازی ہی رہے۔بریگیڈیئرمحمد شفیع غازی کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نظر نہیں آتا جو قابلِ ستائش نہ ہو، وہ واقعی ایک بڑے آدمی ہیں۔

نئ بات
راولپنڈی :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا، جس کا استقبال کور کمانڈر لاہور نے کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کو فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس دوران انہوں نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی خصوصی فیلڈ ٹریننگ مشق کا مشاہدہ کیا۔ مزید برآں، چیف آف ڈیفنس فورسز نے فوجی جوانوں کے لیے دستیاب اسپورٹس اور تفریحی سہولیات کا معائنہ کیا۔ دورے کا مقصد جوانوں کی تربیت اور لاہور گیریژن کی استعداد کار کو مزید مؤثر بنانا بتایا گیا ہے۔