اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک سال قبل اسسٹنٹ کمشنرپتوکی فرقان محمد کی ہلاکت کا معمہ ابھی تک حل نہ ہونے بارے فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک سال قبل اسسٹنٹ کمشنرپتوکی فرقان محمد کی ہلاکت کا معمہ ابھی تک حل نہ ہونے بارے فیصلہ جاری کر دیا
View on original source
زمرہ: مکس
شیئر کریں
آرکائیو
پسند کریں
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 ستمبر2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک سال قبل اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان محمد کی ہلاکت کا معمہ ابھی تک حل نہ ہو نے بارے فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جس میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے مرحوم اے سی فرقان محمد کا دو ہفتوں میں پوسٹ مارٹم اور قبر کشائی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ جسٹس شاہ رخ ارجمند نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالتی حکم کے باوجود پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست عدالت نے نمٹا دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی یقین دہانی کے مطابق دو ہفتوں میں قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ مرحوم اے سی فرقان محمد خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے پمز کا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، میڈیکل بورڈ شہید افسر فرقان محمد خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا جائزہ لے گا۔ درخواست گزار محمد خان مروت کی جانب سے وکیل احتشام اسلم نے کیس کی پیروی کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایچ ایٹ قبرستان میں دفن مرحوم فرقان کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ 31 اگست 2025 کو سیلابی علاقوں میں ریلیف آپریشن کے بعد ریسٹ ہاؤس میں مرحوم کی موت واقع ہوئی تھی۔

(0)تبصرے

 

کوکیز کے بارے میں ایک نوٹ

نیوزہنٹ آپ کو سائن ان رکھنے اور آپ کی زبان اور ملک یاد رکھنے کے لیے ضروری کوکیز استعمال کرتا ہے، تاکہ سائٹ آپ کی توقع کے مطابق کام کرے۔ آپ کی اجازت سے، ہم یہ سمجھنے کے لیے تجزیاتی کوکیز بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ نیوزہنٹ کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

قبول کرنا صرف تجزیات کو متاثر کرتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں پرائیویسی پالیسی or شرائط و ضوابط.