فوج چھوڑ کر دیکھا کہ کتنے فلسطینی بچے مارے گئے تو صدمے میں آ گئی: سابق اسرائیلی خاتون فوجی

فوج چھوڑ کر دیکھا کہ کتنے فلسطینی بچے مارے گئے تو صدمے میں آ گئی: سابق اسرائیلی خاتون فوجی
View on original source
زمرہ: سیاست
شیئر کریں
آرکائیو
پسند کریں
اسرائیل کی سابق خاتون فوجی اہلکار نے اسرائیلی میڈیاکو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی توپ خانے کی فوج میں ہمیں بتایا گیا کہ ہم صرف دہشتگردوں کو مارتے ہیں لیکن یہ جھوٹ ہے۔ سابق اسرائیلی فوجی نے کہا کہ فلسطینی شہری امن چاہتے ہیں، زندگی چاہتے ہیں، فوج چھوڑنے کے بعد دیکھا کہ کتنے بچے مارے گئے تھے، تو صدمے میں آگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے مرنے کے مناظر، ماؤں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں یہ احساسِ جرم ختم نہیں ہوتا۔

(0)تبصرے

 

کوکیز کے بارے میں ایک نوٹ

نیوزہنٹ آپ کو سائن ان رکھنے اور آپ کی زبان اور ملک یاد رکھنے کے لیے ضروری کوکیز استعمال کرتا ہے، تاکہ سائٹ آپ کی توقع کے مطابق کام کرے۔ آپ کی اجازت سے، ہم یہ سمجھنے کے لیے تجزیاتی کوکیز بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ نیوزہنٹ کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

قبول کرنا صرف تجزیات کو متاثر کرتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں پرائیویسی پالیسی or شرائط و ضوابط.