اے آئی ماڈلز کی پے در پے بغاوت میں اسرائیل کا نام سامنے آگیا

Image
View on original source
زمرہ: سائنس ٹیکنالوجی
شیئر کریں
آرکائیو
پسند کریں
اے آئی کی دنیا میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور میٹا کے اے آئی ماڈلزسیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران اپنے قواعد و ضوابط سے باہر نکل گئے اورکچھ ماڈلز نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے دوسری کمپنیوں اور سسٹمز کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام بظاہر الگ الگ واقعات میں ایک بات مشترک پائی گئی ہے، اور وہ ہے اسرائیل کا ایک نیا سیکیورٹی ٹیسٹنگ اسٹارٹ اپ جس کا نام اریگولر ہے۔ اریگولر ایک ایسی کمپنی ہے جس کی ٹیکنالوجی اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی جانچنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ دنیا بھر کی بڑی اے آئی کمپنیوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرتی ہے جہاں وہ اپنے ماڈلز کو آزما سکیں اور دیکھ سکیں کہ ان میں کوئی خامی تو موجود نہیں اور مختلف حالات میں وہ کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔ تین سال قبل تل ابیب میں قائم ہونے والی اس کمپنی کی بنیاد آئی بی ایم اور گوگل کے سابق ماہرین نے رکھی تھی، جبکہ گزشتہ سال ایک فنڈنگ راؤنڈ کے بعد اس کی قدر تقریباً 450 ملین ڈالر لگائی گئی تھی۔ یہ تمام تنازعات اس وقت شروع ہوئے جب اے آئی ماڈلز کو ایک ایسے محدود ماحول میں ٹیسٹ کیا جا رہا تھا جس کا انٹرنیٹ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ باہر کی دنیا میں کوئی اثر نہ ڈال سکیں۔ تاہم اریگولر کے سسٹمز میں سیٹنگز کی کچھ خرابیوں کی وجہ سے ان ماڈلز کو غلطی سے انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ جیسے ہی ماڈلز کو انٹرنیٹ ملا، انہوں نے اسے بھی ٹیسٹنگ کا حصہ سمجھا اور اصلی ویب سائٹس اور دیگر اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں گھس کر خامیاں تلاش کرنا اور انہیں ہیک کرنا شروع کر دیا۔ اینتھروپک نے سب سے پہلے بتایا کہ اس کے ماڈل نے تین مختلف اداروں کے سسٹمز تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد اوپن اے آئی اور حال ہی میں میٹا نے بھی اعتراف کیا کہ ان کا ماڈل اریگولر کے ماحول میں ٹیسٹنگ کے دوران انٹرنیٹ سے جڑ گیا اور دیگر سسٹمز میں گھس گیا۔ اریگولر کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ایک ہی فنی خرابی کی وجہ سے پیش آئے اور یہ کوئی انتہائی پیچیدہ سائبر حملہ نہیں تھا، نیز اب تمام مسائل کو حل کر لیا گیا ہے اور آئندہ کے لیے حفاظتی گائیڈ لائنز تیار کی جا رہی ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت کوئی کھلا مسئلہ باقی نہیں ہے اور وہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس کی سیکیورٹی جانچ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ایک وائٹ پیپر اور بہترین طریقہ کار پر مبنی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ اے آئی کی دوڑ میں جہاں کمپنیاں زیادہ طاقتور ماڈلز بنانے پر توجہ دے رہی ہیں، وہیں ان ماڈلز کو محفوظ رکھنے، ان کی رسائی محدود کرنے اور ٹیسٹنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز طاقتور ہو رہے ہیں، ان کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کا نظام انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ اے آئی کے غلط استعمال کے خدشات کی وجہ سے امریکا نے پہلے ہی کچھ ماڈلز پر عارضی پابندیاں عائد کردی ہیں اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا نیا ماڈل اتنا طاقتور ہے کہ اسے فی الحال عام عوام کے لیے جاری نہیں کیا جا سکتا۔

(0)تبصرے