talal chaudhry says 3 dams will be built for Islamabad in the next 3 to 4 years

talal chaudhry says 3 dams will be built for Islamabad in the next 3 to 4 years
View on original source
زمرہ: سیاست
شیئر کریں
آرکائیو
پسند کریں
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو کیمروں سے کور کریں گے اور وفاقی دارالحکومت میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے تین ڈیم 3،4 سال میں بنیں گے۔ وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منفی سیاست نہیں کرنی چاہیے، حالات صرف ایک چیز سے بدل سکتے ہیں کہ ووٹ دیتے ہوئے اللہ کو حاضر ناضر جان کر کاسٹ کریں اور ووٹ دیتے وقت دیکھیں کہ کام کس کے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس مین اپنے کاروبار میں مینیجر رکھتے ہوئے تو بڑی چھان بین کرتے ہیں، ووٹ دیتے وقت کسی کی برادری، گاڑی یا ہینڈسم لگنا چھوڑ دیں۔ وفاقی دارالحکومت کے نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے اپنا نظام یہاں کے باسیوں کا حق ہے، ہر وہ خرابی اسلام آباد میں ہے جو کسی بھی غیرمربوط شہر میں ہوتی ہے، 1100 ارب کی زمین ہم نے اسلام آباد میں واگزار کروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا ایک ایک انچ کیمروں سے کور ہوگا، اسلام آباد پولیس میں 70فیصد فورس 55 سال سے زائد عمر کے ہیں، 10 ہزار نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں گے اور ایک بھی بندہ بغیر میرٹ کے نہیں ہوگا۔ وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 50 فیصد پانی کی کمی ہے تاہم اسلام آباد کے لیے تین ڈیم تین،چار سال میں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کوڑا اٹھانے کا کوئی نظام نہیں ہے، کوڑا اٹھانے کے لیے بین الاقوامی معیار کا نظام لائیں گے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ میٹرو بس سروس میں ایک روز جتنے لوگ سفر کرتے ہیں اتنے بھی اسلام آباد سے ووٹ نہیں ملتے، ایک صوبے کی حکومت 1122 کی گاڑیاں، ایمبولینسز لے کر وفاق کی طرف آتے ہیں۔پی ٹی آئی والے بزدل لوگ ہیں اسی لیے دھرنا دینے سے بھاگ گئے، وزیر اطلاعاتخود انحصاری کے تحت ''پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ'' اسکیم کا افتتاح، ہر سال 16ارب کے انعام دینے کا اعلانخبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے جملہ حقوق بحق ایکسپریس میڈیا گروپ محفوظ ہیں۔. وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو کیمروں سے کور کریں گے اور وفاقی دارالحکومت میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے تین ڈیم 3،4 سال میں بنیں گے۔ وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منفی سیاست نہیں کرنی چاہیے، حالات صرف ایک چیز سے بدل سکتے ہیں کہ ووٹ دیتے ہوئے اللہ کو حاضر ناضر جان کر کاسٹ کریں اور ووٹ دیتے وقت دیکھیں کہ کام کس کے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس مین اپنے کاروبار میں مینیجر رکھتے ہوئے تو بڑی چھان بین کرتے ہیں، ووٹ دیتے وقت کسی کی برادری، گاڑی یا ہینڈسم لگنا چھوڑ دیں۔ وفاقی دارالحکومت کے نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے اپنا نظام یہاں کے باسیوں کا حق ہے، ہر وہ خرابی اسلام آباد میں ہے جو کسی بھی غیرمربوط شہر میں ہوتی ہے، 1100 ارب کی زمین ہم نے اسلام آباد میں واگزار کروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا ایک ایک انچ کیمروں سے کور ہوگا، اسلام آباد پولیس میں 70فیصد فورس 55 سال سے زائد عمر کے ہیں، 10 ہزار نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں گے اور ایک بھی بندہ بغیر میرٹ کے نہیں ہوگا۔ وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 50 فیصد پانی کی کمی ہے تاہم اسلام آباد کے لیے تین ڈیم تین،چار سال میں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کوڑا اٹھانے کا کوئی نظام نہیں ہے، کوڑا اٹھانے کے لیے بین الاقوامی معیار کا نظام لائیں گے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ میٹرو بس سروس میں ایک روز جتنے لوگ سفر کرتے ہیں اتنے بھی اسلام آباد سے ووٹ نہیں ملتے، ایک صوبے کی حکومت 1122 کی گاڑیاں، ایمبولینسز لے کر وفاق کی طرف آتے ہیں۔پی ٹی آئی والے بزدل لوگ ہیں اسی لیے دھرنا دینے سے بھاگ گئے، وزیر اطلاعاتخود انحصاری کے تحت ''پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ'' اسکیم کا افتتاح، ہر سال 16ارب کے انعام دینے کا اعلانخبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے جملہ حقوق بحق ایکسپریس میڈیا گروپ محفوظ ہیں۔

(0)تبصرے

 

کوکیز کے بارے میں ایک نوٹ

نیوزہنٹ آپ کو سائن ان رکھنے اور آپ کی زبان اور ملک یاد رکھنے کے لیے ضروری کوکیز استعمال کرتا ہے، تاکہ سائٹ آپ کی توقع کے مطابق کام کرے۔ آپ کی اجازت سے، ہم یہ سمجھنے کے لیے تجزیاتی کوکیز بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ نیوزہنٹ کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

قبول کرنا صرف تجزیات کو متاثر کرتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں پرائیویسی پالیسی or شرائط و ضوابط.