کریم شاہ نزاری: نظارۂ فطرت کے قریب رہنے والی شخصیت

کریم شاہ نزاری: نظارۂ فطرت کے قریب رہنے والی شخصیت
View on original source
زمرہ: تفریح
شیئر کریں
آرکائیو
پسند کریں
کریم شاہ نزاری کا تعلق یاسین منچ کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ وہ سادہ مزاج، نرم دل، باصلاحیت اور فطرت کے بے حد قریب رہنے والے نوجوان تھے۔ سفر کا شوق رکھتے تھے اور پہاڑوں، وادیوں، درّوں اور قدرتی مناظر سے انہیں ایک خاص انس تھا۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو پہلی ملاقات ہی میں انسان کو اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔ کریم شاہ نزاری سے میری پہلی ملاقات اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی میں ہوئی۔ گھنگریالے بال، دبلا پتلا جسم، درمیانہ قد اور چہرے پر ایک خاص سادگی لیے وہ اس وقت یونیورسٹی کے طالب علم تھے، جبکہ ہم بھی تعلیم کے سلسلے میں ابھی ابھی اسلام آباد آئے تھے۔ پہلی ملاقات ہی میں یوں محسوس ہوا جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ اس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا اور رفتہ رفتہ یہ تعلق ایک خوبصورت دوستی میں بدل گیا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات میں کریم شاہ نزاری اپنی سماجی سرگرمیوں اور خدمات کے باعث خاصے معروف تھے۔ وہ لوگوں سے گھل مل جانے والے، دوسروں کی مدد کرنے والے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے مسائل اور خوشیوں میں شریک ہونے والے انسان تھے۔ 2016 ء کے بعد میں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کو خیرباد کہہ دیا، جس کے بعد ایک طویل عرصے تک کریم شاہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ زندگی اپنی اپنی سمتوں میں آگے بڑھتی رہی، مگر کچھ رشتے اور کچھ یادیں وقت کے فاصلے سے کبھی کم نہیں ہوتیں۔ 2020 ء میں جب دوبارہ واپسی ہوئی تو کریم شاہ سے ایک بار پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یاسین پل کے قریب ایک ڈھابے پر اکثر انہیں سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔ جب ان کے پاس بیٹھتا تو گفتگو کا ایک نیا جہان کھل جاتا۔ ان کی باتوں میں تاریخ بھی ہوتی، ثقافت بھی، پہاڑ بھی، معدنیات بھی، سفر بھی اور ان راستوں کی کہانیاں بھی جن سے عام لوگ شاید ہی واقف ہوں۔ وہ یاسین سمیت گلگت بلتستان کے ان انجانے راستوں، درّوں اور پہاڑی سلسلوں کے بارے میں ایسی معلومات رکھتے تھے جو حیران کر دیتی تھیں۔ سیاحت ان کے لیے محض تفریح نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ایک وسیلہ تھی۔ وہ پہاڑوں کو صرف دیکھتے نہیں تھے بلکہ انہیں پڑھتے تھے، راستوں کو صرف طے نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے پس منظر اور کہانیوں کو بھی جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ کریم شاہ نزاری کی زندگی بظاہر بہت سادہ تھی۔ انہیں دیکھ کر کبھی کبھی محسوس ہوتا جیسے وہ کچھ نہیں کر رہے، بس وقت گزار رہے ہیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ وہ اپنے انداز میں بہت کچھ کر رہے تھے ؛ پڑھ رہے تھے، دیکھ رہے تھے، سفر کر رہے تھے، لوگوں کو جان رہے تھے، فطرت کو سمجھ رہے تھے اور اپنے اردگرد کی دنیا کو ایک مختلف نظر سے محسوس کر رہے تھے۔ شاید کچھ لوگ زندگی کو گھڑی کی سوئیوں سے نہیں بلکہ لمحوں، راستوں، پہاڑوں اور یادوں سے ناپتے ہیں۔ کریم شاہ نزاری بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک مسافر کی بے قراری، ایک طالب علم کی جستجو اور فطرت سے محبت کرنے والے انسان کی خاموش سی کشش موجود تھی۔ کریم شاہ نزاری سے میری آخری ملاقات ان کی رحلت سے تقریباً ایک ہفتہ قبل اسی ڈھابے پر ہوئی تھی، جہاں ہم اکثر بیٹھا کرتے تھے۔ اس روز بھی حسبِ معمول طویل گفتگو ہوئی۔ گلگت بلتستان کے کچھ پیچیدہ اور اہم مسائل زیرِ بحث آئے۔ ہم دیر تک ان مسائل کے مختلف پہلوؤں پر بات کرتے رہے۔ کریم شاہ اپنی مخصوص سنجیدگی، دلچسپی اور مشاہدے کے ساتھ گفتگو میں شریک رہے مگر اس وقت کہاں معلوم تھا کہ یہ کریم شاہ نزاری سے ہماری آخری ملاقات ہے اگر ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ یہ آخری نشست ہے تو شاید ہم وہاں سے اتنی جلدی نہ اٹھتے۔ کچھ اور وقت ساتھ گزارتے، ڈھیر ساری باتیں کرتے، پرانی یادیں تازہ کرتے، ان کے سفر اور پہاڑوں کی کہانیاں سنتے مگر زندگی کی سب سے بڑی بے بسی یہی ہے کہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی ملاقات آخری ہے، کون سی گفتگو آخری ہے اور کون سا لمحہ دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ آج جب یاسین پل کے قریب اس ڈھابے کا خیال آتا ہے تو کریم شاہ نزاری کی یاد بے اختیار دل میں اتر آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ابھی اسی جگہ بیٹھے ہوں، ہاتھ میں سگریٹ ہو، سامنے یاسین کے پہاڑ ہوں اور کسی انجان راستے، کسی درے، کسی قدیم روایت یا گلگت بلتستان کے کسی پیچیدہ مسئلے پر گفتگو شروع ہونے والی ہو۔ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی باتیں، ان کی مسکراہٹ، ان کا انداز اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے کہیں نہیں جاتے۔ وہ ہماری یادوں کا حصہ بن کر ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ کریم شاہ نزاری کو اب ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت، ان کی گفتگو اور ان کی محبت ہمیشہ یاد رہے گی۔

(0)تبصرے

 

کوکیز کے بارے میں ایک نوٹ

نیوزہنٹ آپ کو سائن ان رکھنے اور آپ کی زبان اور ملک یاد رکھنے کے لیے ضروری کوکیز استعمال کرتا ہے، تاکہ سائٹ آپ کی توقع کے مطابق کام کرے۔ آپ کی اجازت سے، ہم یہ سمجھنے کے لیے تجزیاتی کوکیز بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ نیوزہنٹ کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

قبول کرنا صرف تجزیات کو متاثر کرتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں پرائیویسی پالیسی or شرائط و ضوابط.