ET

ETV Bharat

ایران کو چار دہائیوں کی جنگی تیاری نے تباہ ہونے سے بچایا، امریکی حملوں کے باوجود طویل جنگ کی صلاحیت برقرار: بھارتی فوجی ماہر

Image
واشنگٹن: بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر تیاری کی تھی اور اس تیاری میں ملک کی اعلیٰ قیادت کے ممکنہ خاتمے جیسے حالات بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق یہی طویل مدتی منصوبہ بندی ایران کو شدید نقصانات کے باوجود مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچانے میں اہم ثابت ہوئی۔ واشنگٹن میں آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) امریکہ کی جانب سے جمعہ کو منعقدہ ایک انٹرایکٹو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی فوجی افسر نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ تنازع میں بھاری نقصانات کے باوجود ایران نے طویل اور تھکا دینے والی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں اس سے قبل بھارت کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی سربراہی بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ کسی بھی ملک کو جنگ شروع کرنے سے قبل اپنا واضح قومی مقصد اور جنگ کے اختتام کے لیے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی طے کرنی چاہیے۔ ڈھلوں نے کہا کہ جنگ شروع کرنے سے قبل چند بنیادی امور کا واضح ہونا ضروری ہے۔ قومی مقصد نہ صرف حکومت بلکہ فوج اور ملک کے عوام کے لیے بھی واضح ہونا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ جنگ کس مرحلے پر کامیابی تصور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بیرونِ ملک جنگ کی صورت میں یہ سوال پہلے سے طے ہونا چاہیے کہ فوج کو جنگی علاقے سے کس طرح واپس نکالا جائے گا اور جنگ کے اختتام کی حکمتِ عملی کیا ہوگی۔ ان کے مطابق بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے خلاف جنگ کی صورت میں تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے اور اس کی شدت کو قابو میں رکھنے کے لیے بھی پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ڈھلوں کے مطابق ایران نے گزشتہ تقریباً 40 برسوں کے دوران اپنی جنگی حکمتِ عملی کو اس انداز میں تیار کیا کہ مرکزی قیادت کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود اس کا فوجی نظام مکمل طور پر مفلوج نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے جسے 'موزیک ڈاکٹرائن' کہا جاتا ہے، اس کے تحت اپنی مسلح افواج کو 31 آزاد ہیڈکوارٹرز میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اگر مرکزی قیادت یا کمان کا ڈھانچہ تباہ بھی ہوجائے تو مختلف فوجی مراکز اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔ ڈھلوں کے مطابق ایران نے طویل جنگ لڑنے اور دشمن کو مسلسل نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی برقرار رکھی ہے۔ ایسی حکمتِ عملی نسبتاً کمزور فریق کو طویل تنازع میں طاقتور دشمن کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بھارتی فوجی ماہر نے ایران کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی اس کی دفاعی صلاحیت کا اہم عنصر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران چاروں طرف سے پہاڑی علاقوں سے گھرا ہوا ہے جبکہ اس کے اندرونی حصے میں وسیع صحرائی علاقے موجود ہیں، جہاں موسم گرما میں درجہ حرارت 55 سے 60 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے قلب تک زمینی فوج کے ذریعے پہنچنے کے لیے پہاڑی سلسلوں کو عبور کرنا ہوگا اور ایک ایک دفاعی مورچے پر قبضہ کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی حملہ ایک انتہائی مشکل آپشن بن جاتا ہے۔ ڈھلوں نے عراق اور سعودی عرب کے نسبتاً کھلے صحرائی علاقوں سے ایران کے جغرافیے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں زمینی کارروائی کی مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ ڈھلوں کے مطابق ایران نے امریکہ کا سمندر میں براہِ راست مقابلہ کرنے کے لیے طیارہ بردار بحری بیڑے یا ایک طاقتور فضائیہ تیار کرنے کے بجائے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کے تحفظ پر مرکوز کیا۔ ایران کی حکمتِ عملی میں تیز رفتار کشتیاں، سمندری بارودی سرنگیں، ٹارپیڈو کشتیاں، ساحلی توپیں، میزائل اور ڈرونز شامل ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی بحریہ بنیادی طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کے دفاع کے لیے تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے روایتی معنوں میں ایک طاقتور فضائیہ بنانے کے بجائے میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام پر زیادہ انحصار کیا اور اسی حکمتِ عملی کے ذریعے جنگ کا مقابلہ کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل ڈھلوں نے کہا کہ فوجی منصوبہ بندی کے لیے ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں اہم اسباق موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایک انتہائی طاقتور دشمن کا سامنا کرنے کے باوجود مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا، کیونکہ اس نے اس ممکنہ جنگ کے لیے تقریباً چار دہائیوں تک تیاری کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے محض جدید ہتھیار رکھنا کافی نہیں بلکہ جنگ کے مختلف مراحل، قیادت کے ممکنہ نقصان، کمانڈ کے تسلسل، جغرافیائی حالات، طویل جنگ اور تنازع کے اختتام سمیت تمام ممکنہ صورتِ حال کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں ان دنوں اپنی نئی کتاب ''آپریشن سندور: پاکستان کے اندر بھارت کے گہرے حملوں کی ان کہی داستان'' کی تشہیر کے لیے امریکہ کے دورے پر ہیں۔ واشنگٹن میں منعقدہ تقریب کے دوران انہیں انڈین امریکن ڈائسپورا ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ بھی پڑھیں: نیشنل اسپیس ڈے پر پی ایم مودی نے سائنسدانوں کو مبارکباد دی، کہا جین زی نئی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں ڈھلوں کے مطابق ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ سے حاصل ہونے والے فوجی اسباق صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اور فوجی منصوبہ سازوں کے لیے بھی اہم ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ ایک نسبتاً کمزور ملک کس طرح طویل مدتی منصوبہ بندی، جغرافیائی برتری، غیرمرکزی کمانڈ اور محدود مگر مخصوص فوجی صلاحیتوں کے ذریعے ایک بڑی عسکری طاقت کے خلاف مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے۔
ایران کو چار دہائیوں کی جنگی تیاری نے تباہ ہونے سے بچایا، امریکی حملوں کے باوجود طویل جنگ کی صلاحیت برقرار: بھارتی فوجی ماہر
View on original source
شیئر کریں
آرکائیو
پسند کریں

(0)تبصرے

 

متعلقہ رائے

کوکیز کے بارے میں ایک نوٹ

نیوزہنٹ آپ کو سائن ان رکھنے اور آپ کی زبان اور ملک یاد رکھنے کے لیے ضروری کوکیز استعمال کرتا ہے، تاکہ سائٹ آپ کی توقع کے مطابق کام کرے۔ آپ کی اجازت سے، ہم یہ سمجھنے کے لیے تجزیاتی کوکیز بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ نیوزہنٹ کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

قبول کرنا صرف تجزیات کو متاثر کرتا ہے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں پرائیویسی پالیسی or شرائط و ضوابط.