Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
ڈاکٹر نعمان صدیقی
ابو کی یاد میں!                     (آخری قسط)

dr numan sidique

ایک دنیا اُن (عرفان صدیقی) کے کالم اور تحریروں کی مداح ہے۔ اِن تحریروں میں ادب کی چاشنی بھی تھی، شائستگی اور نرمی میں پروئے ہوئے الفاظ کے ساتھ دلائل کی وہ قوت تھی کہ دوسرے کو پاش پاش کردے۔

 اعلیٰ معیار کی یہ تحریریں اور کالم پڑھ کر تو لگتا ہے کہ جیسے یہ کسی الگ تھلگ کمرے میں بیٹھ کر لکھا گیا ہوگا، جہاں سکون ہوگا، جہاں کوئی آواز نہ ہوگی اور جہاں کسی کا دخل نہ ہوگا مگر ایسا ہرگز نہ تھا۔ چاہے کالم ہو یا کوئی بھی تحریر، وہ اپنے بستر پر نیم دراز ہوکر اِس حالت میں لکھتے تھے کہ آس پاس ہم سب کا آنا جانا بھی لگا ہے، ہم آپس میں بات بھی کر رہے ہیں، ٹی۔وی بھی آواز کے ساتھ لگا ہے، بچے شور بھی کررہے ہیں اور ابو خود بھی بات چیت میں حصہ لے رہے ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ تحریر کے معیار، الفاظ کے چناؤ اور ان کے بہاؤ پر اس ماحول کا زرا سا بھی اثر نہیں ہوتا تھا۔ یہ اُن کی خداد داد صلاحیتوں کی ایک جھلک ہے۔

لکھنے لکھانے سے اُن کو اتنا لگاؤ تھا اور اپنے کام سے اتنی وفا تھی کہ جب تک ہاتھوں اور ذہن نے ساتھ دیا وہ لکھتے رہے۔ اپنا آخری کالم انہوں نے اپنی وفات سے چند دِن قبل ICU کے بستر پر بیٹھے اپنے ہاتھوں سے لکھا اور ارشد ملک صاحب سے اس کی نوک پلک درست کرنے کے لئے فون پر بات بھی کی۔اپنے بچپن سے اپنی زندگی خود بنانے اور سنوارنے کی جو دھن تھی وہ کبھی کم نہ ہوسکی۔ زندگی کے کسی مقام پر محنت، لگن اور ریاضت کا سفر کبھی رُکا نہیں، تھما نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آخری دم تک اُن کی زندگی کسی پر منحصر نہیں رہی۔ اِس بات پر ان کو خود بھی فخر تھا۔ ابو ہی کا ایک شعر ہے:

یہ میرے خدائے کریم ہی کا کرم ہے عرفاں کہ عمر بھر

نہ کسی کا دستِ نگر ہوا نہ کسی پہ بارِگراں رہا

وقت کے بہت پابند تھے۔ مجھے یاد ہے کہ بڑے بھائی عمران کی شادی پر بارات طے شدہ وقت سے بھی قبل ہوٹل کے باہر پہنچ گئی تھی اور ہمیں انتظار کرنا پڑا کہ کب وقت ہو اور ہم اندر داخل ہوں۔ ہم نے انہیں ہر کام وقت اور نظم و ضبط کے ساتھ کرتے دیکھا۔ شاید اوائل عمری میں ہی انہوں نے وقت کو تھام لیا تھا،یہی وجہ ہے کہ وقت نے بھی اُن سے پوری وفا کی اور اللہ کے کرم اور اپنے والدین کی دعاؤں سے اُن کو عزت، مقام، مرتبہ اور ایسی بلندی عطا ہوئی جس پر آج ہم سب کو فخر ہے اورہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ 

عملی سیاست میں وہ ایک ہی مقصد لے کر آئے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اپنی پارٹی کی نمائیندگی کرتے ہوئے انہوں نے یہ کردار بڑی حق گوئی اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔ سیاست سے انہوں نے اپنے یا اپنے خاندان کے لئے تو کچھ لیا نہ کبھی مانگا مگر اپنے عمل سے سیاست کو بہت کچھ دے گئے۔ایوان میں اُن کے آنے سے برداشت، رواداری، کشادہ دِلی اور رَکھ رکھاؤ کے ایک باب کا اضافہ ہوا۔ اُن کی وفات پر اپوزیشن کے بہت سے ممبرز بھی ہمارے گھر تشریف لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیقی صاحب تو اپوزیشن لابی میں آکر ہمارے ساتھ بھی چائے پیتے تھے اور ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے

 سیاست سے ہٹ کر میاں محمد نوازشریف صاحب سے اُن کا ایک ذاتی عزت،احترام اور محبت کا رشتہ تھا۔ بیماری کے دوران جب ابو ٹیسٹ کرانے لاہور گئے تو میاں نوازشریف اُن کی عیادت کرنے ہسپتال تشریف لائے۔ اگلے دِن جب ابو لاہورسے واپس آئے تو اِس بات پر اُن کے دِل میں تشکر کے جذبات تھے۔ انہوں نے میاں صاحب کے نام ایک خط تحریر کرنے کا فیصلہ کیا۔ پوچھنے پرکہنے لگے کہ میاں نوازشریف اپنی خرابیِ صحت کے باوجود مجھے ملنے ہسپتال آئے تو میں تحریری طورپر اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے وہ خط تحریر کرنا شروع کیا جسے پھر وہ مکمل نہ کرپائے اور محض تین سطریں لکھ سکے۔ یہ تین سطریں میاں محمد نوازشریف کی امانت تھیں جو ہم نے اُن کے سپرد کر دیں۔

شاید اُن کو آنے والے کسی وقت کا اشارہ تھا کہ بڑے بھائی عمران جو سولہ (16) سال سے دبئی میں مقیم تھے، اُن کو کہنے لگے کہ اب کافی باہر رہ لیا، اب واپس پاکستان آ جاؤ۔ ابو کے کہنے پر بھائی اگست میں پاکستان منتقل ہوگئے اور ستمبر کے آخر میں ابو کو بیماری نے پکڑلیا۔ بیماری کے دوران ہم سب نے ان کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یوں تو ابو کو سب سے پیار تھا لیکن بڑے بھائی عمران کا بیٹا فائز اُن کے دِل کا ٹکڑا تھا۔ فائز بھی اُن سے بے پناہ پیار کرتا تھا۔ فائز نے دِن رات اُن کی خدمت کا حق ادا کردیا مگر وہ بھی اُن کو جانے سے روک نہ سکا۔

ہماری والدہ اور ابو کی 56 برس طویل اور کامیاب رفاقت رہی۔ ابو کی گرتی صحت کو دیکھتے ہوئے وفات سے کچھ دِن قبل ہم امی کو ہسپتال لے کر گئے۔ تب ابو کچھ ہوش میں بھی تھے۔ یہ اُن دونوں کی آخری ملاقات تھی،جاتے جاتے ابو نے ہاتھ لہرا کر انہیں الوداع کہا، ہمیشہ کے لئے کہ اُس کے کچھ دِن بعد ابو رخصت ہو گئے۔ ہماری والدہ بتاتی ہیں کہ میں نے آپ کے ابو سے کہا تھا کہ جب میں اِس دنیا سے جاؤں گی تو مجھ پر کالم نہیں لکھنا۔ یہ والدہ کی عاجزی اور سادگی تھی مگر کِسے معلوم تھا کہ یہ بات یوں درست ہوجائے گی کہ ابو اُن سے پہلے چلے جائیں گے۔

ابو لکھتے ہیں 

 یہ مُشکبار رُتیں مختصر سی ہوتی ہیں!

محبتوں کی وَفا کیش بارشوں سے نہ روٹھ

نہ جانے کون، کہاں، کس گھڑی بچھڑ جائے

کسی سے روٹھ مگر اپنے دوستوں سے نہ روٹھ

وہ چلے گئے مگر اپنے پیچھے تحریروں کا قیمتی خزانہ چھوڑ گئے۔ اِن کی تحریریں کالم، مضمون، خاکے، شعروشاعری یا کسی بھی شکل میں ہوں، ایک سرمایہ ہیں۔ اچھی اور معیاری اردو سیکھنے یا لکھنے کی آرزو ہو تو اُن کی تحریریں، دینی اور نظریاتی بنیادوں کو پہچاننا ہو تو ان کی تحریریں، سیاسی اور قومی تاریخ سے آگاہی لینی ہو تو ان کی تصانیف،ادب کی چاشنی کا لطف لینا ہو تو ان کی شعر و شاعری دِلوں میں سوز و گداز پیدا کرنا ہو تو مکہ مدینہ کے سفر نامے۔ اپنا بہت سا تحریری اثاثہ وہ اپنی زندگی ہی میں کتابی شکل میں مرتب کر گئے تھے۔اُن کے دیرینہ دوست محترم پرویز رشید صاحب نے ایک تقریب میں ابو کے لکھے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ایسے خط بھی ادبی شہ پا روں سے کم نہیں اور اُن کو بھی مرتب ہونا چاہیے۔اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ہم تمام احباب سے گزارش کریں گے کہ ابو کی کوئی تحریر یا خط اُن کے پاس محفوظ ہو تو براہ کرم ہمیں عنایت کریں تاکہ اُن کو ہم مرتب و محفوظ کر سکیں۔ 

اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت سے سرشار تھے۔ ان کی لکھی ہوئی ایک نعت کے کچھ اشعار:

ہر ایک دھڑکن میں خوشبوؤں کا جہاں تازہ بسا ہوا ہے

 میرے محمدؐ کا نام میری بیاض دِل پر لکھا ہوا ہے

محبتوں اور شفقتوں اور عنائیتوں کے سبھی خزانے

مجھے تو جو بھی عطا ہوا ہے اِسی کے صدقے عطا ہوا ہے

کرن کرن نور، آبشارِ بہار، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے

کہ میرے گھر کا ہر اک دریچہ سُوئے مدینہ کھلا ہوا ہے

تمام احباب سے التماس ہے کہ اللہ کریم سے دعا فرمائیں کہ ان کی قبر کا ہر دریچہ بھی سوئے مدینہ کھل جائے جہاں سے اُن کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے رہیں۔ آمین

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -

View on original source
شیئر کرنا
آرکائیو
پسند

view_more_opinions_from ڈاکٹر نعمان صدیقی

(0)تبصرے