اتوار کی رات نیند آنے سے قبل یہ بدخبری آگئی تھی کہ پٹرول کی قیمت میں 7روپے 45پیسے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اضافے کا یہ اعلان جولائی 2024ء سے شروع ہونے والے
نصرت جاوید
امریکی ایوان نمائندگان ہماری قومی اسمبلی جیسا ہے۔ اس کے 85فی صد اراکین اگر باہمی اختلافات بھلاکر کسی معاملہ کی حمایت میں متحد ہوکر کوئی قرارداد منظور کریں تو
نصرت جاوید
سوشل میڈیا کا سرسری مشاہدہ آپ کو اس گماں میں مبتلا کردیتا ہے کہ دورِ حاضر کے انسان ’’باخبر‘‘ ہی نہیں بلکہ دنیا کو درپیش مسائل کے بارے
نصرت جاوید
ہم میں سے بہت پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بہت دنوں بعد سمجھ آئے گی کہ بدھ کی شام پیش ہوا سالانہ بجٹ بنیادی طورپر ’’ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے
نصرت جاوید
بدھ12جون2024ء کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ آج سہ پہر مسلم لیگ (نون) کی تیسری حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کرنا ہے۔اصولی طورپر یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے
نصرت جاوید
نریندر مودی کے بھارتی وزیر اعظم کا تیسری بار منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان نے انہیں مبارک باد کا جو یک سطری پیغام بھیجا وہ قابل فہم ہے۔ روایتی سفارت
نصرت جاوید
پیر کی صبح چھپے کالم میں تفصیل سے بیان کیا تھا کہ گزشتہ جمعرات کرکٹ کے کھیل سے عدم دلچسپی کے باوجود میں ورلڈ کپ کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے مابین ہوا میچ
نصرت جاوید
اتوار کی صبح دیر سے اٹھنے کی عادت ہے۔ آج معاملہ مگر مختلف ہے۔میری بیٹیوں نے شام کو نیویارک میں ہونے والاپاک-بھارت کرکٹ میچ دوستوں سمیت دیکھنے کا اعلان کررکھا
نصرت جاوید
بھارت کے حالیہ انتخاب نے میری دانست میں بنیادی پیغام یہ دیا ہے کہ اپنے تئیں ’’دطیوتا‘‘ ہوئے سیاسی رہ نمائوں کے آمرانہ رویوں سے نجات کا
نصرت جاوید
دنیا میں جسے ’’مین سٹریم میڈیا‘‘ کہا جاتا ہے بھارت میں اس کے نمائندہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی اکثریت نریندر مودی کی سرپرستی میں
نصرت جاوید
واشنگٹن میں 2022ء کے موسم بہار کے دوران تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہم افسر نے مبینہ طورپر ایک ’’دھمکی
نصرت جاوید
برملا (نصرت جاوید )۔جس صبح یہ کالم چھپے گا اس وقت وزیر اعظم پاکستان دورہ چین پر روانہ ہونے کے قریب ہوں گے۔قومی اسمبلی میں سالانہ بجٹ پیش کرنے سے چند ہی
نصرت جاوید
آج سے 3سال قبل ڈاک کے ذریعے ایک کتاب ملی تھی۔ نام تھا اس کا ’کئی سولیاں سرِ راہ تھیں‘۔ اس کے مصنف تھے خواجہ آصف جاوید بٹ صاحب جن کا پیشہ وکالت
نصرت جاوید
عاشقان عمران خان اپنے قائد کو بہت سادہ شمار کرتے ہیں۔ ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے لیکن میں ان کا بطور سیاستدان 1996ء سے بغور جائزہ لینے کو مجبور تھا اور میرا
نصرت جاوید
ملکی سیاست میں دلچسپی رکھنے والا ہر شخص خواہ وہ نواز شریف کا حمایتی ہو یا بدترین مخالف یہ جاننا چاہے گا کہ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے کے بعد وہ عمر کے اس
نصرت جاوید
ہر صحافی کی طرح میری بھی یہ خواہش تھی کہ ریٹائرہوجانے کے بعد اپنی ڈائری میں لکھے چند واقعات اور موضوعات پر غور کرتے ہوئے کتاب کے بعد کتاب لکھتے ہوئے اس دنیا سے
نصرت جاوید
عرصہ ہوا طلعت حسین صاحب سے فون پر بھی بات نہیں ہوئی تھی۔ اتوار کی سہ پہر لیکن ان کی رحلت کی خبر ملی تو یادوں کا انبار جمع ہونا شروع ہوگیا۔ ان سے ملاقات سے کئی
نصرت جاوید
اپریل 2022ء میں عمران حکومت قومی اسمبلی میں پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کی بدولت فارغ ہوگئی تو سابق وزیر اعظم اپنے و عدے کے مطابق ’مزید خطرے ناک‘
نصرت جاوید
منگل اور بدھ کے روز سینٹ کے جو اجلاس ہوئے انہیں پارلیمان ہائوس جاکر نہیں دیکھا۔ لیپ ٹاپ کھول کر براہِ راست نشریات کی بدولت کارروائی کا مشاہدہ بھی نہیں کیا۔ محض
نصرت جاوید
ان دنوں منیر نیازی کے بتائے’’حرکت تیز تر‘‘ والے ہیجان کی زد میں ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی کونسے موضوع پر توجہ
نصرت جاوید