مکے کے مقابلے میں مدینہ ایک کھلا اور زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے۔تاہم جب میں مکہ میں تھا تو دوست کہتے تھے جب مدینہ جاؤ گے تو تمہیں لوگوں کے رویوں اور عادتوں میں
نسیم شاہد
آج مدینہ شریف کی طرف عازم سفر ہونا ہے، دل کی دھڑکنیں ہیں کہ قابو میں نہیں۔ میں نے بہت سال پہلے ایک نعت لکھی تھی جس کا مطلع یہ تھا: مدینے جاؤ تو میرا سلام
نسیم شاہد
میرا تجربہ تو یہ رہا ہے جہاں کہیں ہجوم اکٹھا ہوا، ذرا سی دھکم پیل ہوئی تو گھونسے اور مکے چل گئے۔ کسی نے ذرا سی بات کر دی، غصے میں آ گئے اور پھر بات بڑھتے
نسیم شاہد
مکہ میں ہوں اور ایسی کیفیت میں ہوں،جس کا زندگی میں پہلی مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔اللہ کو انسان تو نہیں دیکھ سکتا، لیکن اُس کے گھر کو دیکھنے کی توفیق بھی مل
نسیم شاہد
میرے ایک چہیتے شاگرد ہیں رانا ممتاز رسول، وہ آج کل نوجوانوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ ملازمت کرنے کی بجائے کاروبار کریں، اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں اور سب
نسیم شاہد
پاکستان میں یہ بات تو سبھی کہتے ہیں کہ یہاں کام نکلوانے کے دو طریقے ہیں۔ رشوت یا سفارش، جبکہ میرا تجربہ کچھ اور کہتا ہے۔ آپ نرم لہجے میں بات کریں، محبت اور
نسیم شاہد
پاکستان میں غریبوں کے لئے جہاں کہیں بھی کوئی اچھا کام ہوتا ہے مجھے دلی خوشی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ تاریخ کا وہ دکھ ہے جس میں غریبوں کو بس دھوکے ہی ملے
نسیم شاہد
زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ لوگ سچ بولنے سے روکتے ہیں، کئی دوست تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں چھوٹوں کے منہ نہ لگیں۔ اب یہ رویہ تو معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے۔ مغربی
نسیم شاہد
جہالت پر اصرار بھی اِس دور کی ایک بڑی بیماری ہے۔ جاہل کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے جب آپ اُس کی کسی غلطی کی نشاندہی کریں تو وہ غلطی تسلیم کرنے کی بجائے
نسیم شاہد
انسانی آزادیوں کی بھڑک مارنے والے کا موبائل خراب ہو جائے، گر کے ٹوٹ جائے یا اُس کا ہارڈ ویئر ڈیڈ ہو جائے تو اُسے آزادی کا بھاؤ تاؤ معلوم ہو جاتا ہے، یکدم اُسے
نسیم شاہد
جرمنی کے ایک استاد نے اپنی کلاس میں ایک دن اپنے شاگردوں کے سامنے سوال رکھا کہ زندگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں۔ شاگرد مختلف جوابات دیتے رہے، پھر اُن کے
نسیم شاہد
ملتان کینٹ کے محفوظ پان والے چوک کی یادوں پر ایک کالم کیا لکھا، ہر شخص اُس کا تذکرہ لے بیٹھا۔لاہور کا چوک لکشمی بھی اپنی ایک شان اور پہچان رکھتا ہے مگر یہ
نسیم شاہد
ایک سینئر بیورو کریٹ دوست جو اس وقت ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز ہیں۔ ذرا وکھڑی ٹائپ کے افسر ہیں،اُن کی روزمرہ مصروفیات دیکھ کر لگتا نہیں کہ بیورو کریسی کی اس
نسیم شاہد
صبح سویرے شیدے ریڑھی والے کے پاس جانا پڑا کہ بیگم صاحبہ نے بتا دیا تھا پیاز، ٹماٹر اور سبزی ختم ہے۔ دوپہر کو کچھ کھانا ہے تو بازار جائیں اور سامان لے آئیں۔ سو
نسیم شاہد
آج کل ہر کوئی دہائی دے رہا ہے کہ سختی بہت ہو گئی۔ اصل میں قصور ان کا بھی نہیں۔ وطن عزیزمیں ہر شخص نے انجوائے بھی تو بہت کیا ہے۔ بے لگام آزادی کی جو لہریں
نسیم شاہد
میرا آج کل کسی کو مخاطب کرنے کا تکیہ کلام کچھ اس طرح ہے، ”مہربان، قدر دان، بھائی جان، پھنے خان“ پہلے تین پر تو مخاطب خوش ہوتا ہے مگر جونہی پھنے
نسیم شاہد
ہم بڑو ں کو یہ زعم ہے کہ بہت بڑے تمن خان ہیں، ہم سے زیادہ ذہین کوئی نہیں اور تدبر و تفکر بھی ہمارے اندر سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ آج کے نوجوانوں
نسیم شاہد
بعض ایسی خبریں جب تسلسل سے آتی ہیں جو انہونی بھی ہوتی ہیں اور معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو بھی دوچند کر دیتی ہیں تو حیرانی ہوتی ہے ہمارے ادارے کس قسم
نسیم شاہد
ملتان کے دو مخدومین کی تاریخ ایک نئی کروٹ لے چکی ہے۔ حالات کی گردش بہت کچھ بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ملتان کے ویسے تو آج کل تین مخدوم سیاست میں ہیں۔ میری مراد مخدوم
نسیم شاہد
میں نے تین بار کمشنر ملتان عامر کریم خان سے کہہ کر اپنے گھر کی طرف آنے والی سڑک چاہ حافظ والا روڈ کو ویسٹ مینجمنٹ والوں سے صاف کرایا،جہاں صاف ستھرا پنجاب کے
نسیم شاہد