Download the Applications
Get it on Google PlayDownload on the App Store
لاگ آؤٹ
Privacy Policy Terms and Condition
NewsHunt
نسیم شاہد
Daily News

آراء

مدینہ خاص تھا خاص رہے گا

مکے کے مقابلے میں مدینہ ایک کھلا اور زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے۔تاہم جب میں مکہ میں تھا تو دوست کہتے تھے جب مدینہ جاؤ گے تو تمہیں لوگوں کے رویوں اور عادتوں میں

نسیم شاہد

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

آج مدینہ شریف کی طرف عازم سفر ہونا ہے، دل کی دھڑکنیں ہیں کہ قابو میں نہیں۔ میں نے بہت سال پہلے ایک نعت لکھی تھی جس کا مطلع یہ تھا: مدینے جاؤ تو میرا سلام

نسیم شاہد

تیرا مکہ رہے آباد مولا           (2)

میرا تجربہ تو یہ رہا ہے جہاں کہیں ہجوم اکٹھا ہوا، ذرا سی دھکم پیل ہوئی تو گھونسے اور مکے چل گئے۔ کسی نے ذرا سی بات کر دی، غصے میں آ گئے اور پھر بات بڑھتے

نسیم شاہد

تیرا مکہ رہے آباد مولا

 مکہ میں ہوں اور ایسی کیفیت میں ہوں،جس کا زندگی میں پہلی مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔اللہ کو انسان تو نہیں دیکھ سکتا، لیکن اُس کے گھر کو دیکھنے کی توفیق بھی مل

نسیم شاہد

منصب نہیں کردار باقی رہتا ہے

میرے ایک چہیتے شاگرد ہیں رانا ممتاز  رسول، وہ آج کل نوجوانوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ ملازمت کرنے کی بجائے کاروبار کریں، اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں اور سب

نسیم شاہد

محبت کا جادو

پاکستان میں یہ بات تو سبھی کہتے ہیں کہ یہاں کام نکلوانے کے دو طریقے ہیں۔ رشوت یا سفارش، جبکہ میرا تجربہ کچھ اور کہتا ہے۔ آپ نرم لہجے میں بات کریں، محبت اور

نسیم شاہد

ملتان میں فلاحی کامکمشنر عامر کریم بازی لے گئے

پاکستان میں غریبوں کے لئے جہاں کہیں بھی کوئی اچھا کام ہوتا ہے مجھے دلی خوشی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ تاریخ کا وہ دکھ ہے جس میں غریبوں کو بس دھوکے ہی ملے

نسیم شاہد

سچ کا متلاشی معاشرہ

زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ لوگ سچ بولنے سے روکتے ہیں، کئی دوست تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں چھوٹوں کے منہ نہ لگیں۔ اب یہ رویہ تو معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے۔ مغربی

نسیم شاہد

جہالت پر اصرار

جہالت پر اصرار بھی اِس دور کی ایک بڑی بیماری ہے۔ جاہل کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے جب آپ اُس کی کسی غلطی کی نشاندہی کریں تو وہ غلطی تسلیم کرنے کی بجائے

نسیم شاہد

نئی غلامی!

انسانی آزادیوں کی بھڑک مارنے والے کا موبائل خراب ہو جائے، گر کے ٹوٹ جائے یا اُس کا ہارڈ ویئر ڈیڈ ہو جائے تو اُسے آزادی کا بھاؤ تاؤ معلوم ہو جاتا ہے، یکدم اُسے

نسیم شاہد

زندگی ونڈ سکرین اور عقبی آئینہ

جرمنی کے ایک استاد نے اپنی کلاس میں ایک دن اپنے شاگردوں کے سامنے سوال رکھا کہ زندگی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں۔ شاگرد مختلف جوابات دیتے رہے، پھر اُن کے

نسیم شاہد

محفوظ پان والا چوک جھارا پہلوان اور آلو کی ٹکیاں

ملتان کینٹ کے محفوظ پان والے چوک کی یادوں پر ایک کالم کیا لکھا، ہر شخص اُس کا تذکرہ لے بیٹھا۔لاہور کا چوک لکشمی بھی اپنی ایک شان اور پہچان رکھتا ہے مگر یہ

نسیم شاہد

تین حروفِ انکار

ایک سینئر بیورو کریٹ دوست جو اس وقت ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز ہیں۔ ذرا وکھڑی ٹائپ کے افسر ہیں،اُن کی روزمرہ مصروفیات دیکھ کر لگتا نہیں کہ بیورو کریسی کی اس

نسیم شاہد

27ویں ترمیم اور شیدے ریڑھی والے کی امیدیں

صبح سویرے شیدے ریڑھی والے کے پاس جانا پڑا کہ بیگم صاحبہ نے بتا دیا تھا پیاز، ٹماٹر اور سبزی ختم ہے۔ دوپہر کو کچھ کھانا ہے تو بازار جائیں اور سامان لے آئیں۔ سو

نسیم شاہد

کیا قانون کا نفاذ ظلم ہے؟

آج کل ہر کوئی دہائی دے رہا ہے کہ سختی بہت ہو گئی۔ اصل میں قصور ان کا بھی نہیں۔ وطن عزیزمیں ہر شخص نے انجوائے بھی تو بہت کیا ہے۔ بے لگام آزادی کی جو لہریں

نسیم شاہد

پھنے خان

میرا آج کل کسی کو مخاطب کرنے کا تکیہ کلام کچھ اس طرح ہے، ”مہربان، قدر دان، بھائی جان، پھنے خان“ پہلے تین پر تو مخاطب خوش ہوتا ہے مگر جونہی پھنے

نسیم شاہد

نوجوانوں کو راستہ دیں دولے شاہ کے چوہے نہ سمجھیں

ہم بڑو ں کو یہ زعم ہے کہ بہت بڑے تمن خان ہیں، ہم سے زیادہ ذہین کوئی نہیں اور تدبر  و تفکر بھی ہمارے اندر سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ آج کے نوجوانوں

نسیم شاہد

بُکل دے وچ چور

 بعض ایسی خبریں جب تسلسل سے آتی ہیں جو انہونی بھی ہوتی ہیں اور معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو بھی دوچند کر دیتی ہیں تو حیرانی ہوتی ہے ہمارے ادارے کس قسم

نسیم شاہد

ملتان کے دو مخدوم اور بدلتی سیاست

ملتان کے دو مخدومین کی تاریخ ایک نئی کروٹ لے چکی ہے۔ حالات کی گردش بہت کچھ بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ملتان کے ویسے تو آج کل تین مخدوم سیاست میں ہیں۔ میری مراد مخدوم

نسیم شاہد

میری ذمہ داری نہیں

میں نے تین بار کمشنر ملتان عامر کریم خان سے کہہ کر اپنے گھر کی طرف آنے والی سڑک چاہ حافظ والا روڈ کو ویسٹ مینجمنٹ والوں سے صاف کرایا،جہاں صاف ستھرا پنجاب کے

نسیم شاہد