طاہر القادری اور قاسم علی شاہ کا ملن

طاہر القادری اور قاسم علی شاہ کا ملن
View on original source
Category: Entertainment
Share
Archive
Like
دو ماہر لسانیات کا کینیڈا کی ٹھنڈی فضاؤں میں ملن ہوا ہے، ماہر کا صیغہ اس وجہ سے جوڑا ہے، کیوں کہ دونوں کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے، یہ دونوں بڑے اچھے سے جانتے ہیں کہ عوام کی محرومیاں کیا ہیں؟ اور ان کو تسلی کیسے دینی ہے اور کس انداز سے بہلانا ہے؟ کون سے الفاظ کا چناؤ کس فریکوئنسی سے کرنا ہے، جذبات کی آنچ اور شدت و حدت کتنا کم اور زیادہ کرنا ہے؟ کس سمے پر کون سی بات کرنی ہے اور کس طرح کا موضوع چھیڑنا ہے اور کون سی محرومی کی چوٹ عوام کے ذہنوں پر لگانی ہے، لفظوں کے یہ جادوگر بخوبی جانتے ہیں۔ جذبات سے کھیلنے کا ہنر مقرر، ناصح اور موٹیویشنل دکاندار سے زیادہ کون جان سکتا ہے بھلا؟ ہمارے ہاں نہ تعلیم ہے اور نا ہی ملازمت، رہا شعور تو وہ ہم ایسوں کے نصیبوں میں کہاں، جہاں صدیوں سے تخلیق و تحقیق پر تالے پڑے ہوں وہاں کے نوجوان قاسم علی شاہ ایسوں سے ہی متاثر ہونے لگتے ہیں، یہ مونولاگ کے بادشاہ ہوتے ہیں اور آسمان و زمین کے قلابے ملانے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے، بخوبی جانتے ہیں کہ سامنے بیٹھے لوگ عقیدت میں نہال ہیں، سوال کی بجائے عقیدت میں سر جھکانے والے ہیں، سوچنے اور سمجھنے کی بجائے آنکھ بند کر کے یقین کرنے والے ہیں، اسی لیے اپنا منجن بیچ کر چلے جاتے ہیں۔ قاسم علی شاہ کینیڈا جاتے ہیں اپنے کسی پروگرام کے سلسلے میں اور طاہر القادری سے ملاقات کی ترتیب بن جاتی ہے، اس ریکارڈ شدہ ملاقات میں وہ طاہر القادری کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جناب عالی لفظوں کی جادو گری کا ہنر تو ہم نے آپ ہی سے سیکھا ہے، لفظوں کے پیچھے چھپنا، جذبات سے کھیلنا اور عوام کو عقیدت کی بھول بھلیوں میں الجھا کر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مسخ کرنا، سوال کی آنچ کو دھیما کر کے کیسے لوگوں کو دست بوسی کی راہوں پر ڈالنا ہے یہ سب آنجناب کی ذات کے ہی تو معجزے ہیں، قاسم علی کے لفظوں کا شاہ بننے میں طاہر القادری ایسوں کا بنیادی کردار ہے۔ یہ بندہ بڑے فخر سے بتا رہا ہے کہ اس کے 2 ملین کے قریب فالورز ہیں اور آنجناب سے ملاقات کی وڈیو ڈالنے کے بعد فالورز کے مزید بڑھنے کے امکانات روشن ہیں، زرخیز اور روشن دماغ تو خیر دیار غیر جا بستے ہیں لیکن سلسلہ قاسم شاہ ایسے لوگ یہیں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، وجہ بالکل صاف ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی چمک دمک روایتی معاشرے میں ہی برقرار رہ سکتی ہے، مہذب دنیا میں تو یہ چند سیکنڈ بھی نہیں ٹک پائیں گے، ان کی خواہشات محروم معاشرے ہی پوری کر سکتے ہیں، مہذب معاشروں میں ان کا منجن تادیر نہیں بک سکتا، اس حقیقت کو یہ بخوبی جانتے ہیں، ورنہ طاہر القادری کو مڑ مڑ کر پیچھے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ ڈیجیٹل خطاب، اعتکاف اور پیری مریدی کا سلسلہ چلانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ سب اپنے اپنے ریوڑ سے جڑے رہنے کے حیلے بہانے ہیں، ان کی تعداد بڑھانے کی خاطر یہ بیرون ملک کا وزٹ کرتے ہیں اور دونوں طرف کے ریوڑ کو قابو رکھنے کے لیے تگ و دو چلتی رہتی ہے، کچھ تو مستقل طور پر بیرون ملک سدھار چکے ہیں اور کچھ موٹیویشنل دکاندار ادھر ادھر پھدک کر فالورز کی تعداد بڑھانے میں لگے رہتے ہیں، طاہر القادری، جاوید احمد غامدی، ننھا پروفیسر بیرون جا بسے ہیں، یہ سب کرامات وقت اور معیشت کے تقاضے ہی تو ہوتے ہیں جو آدمی کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے ہیں، یہ معیشت ہی تو ہے جو دنیا سے نفرت کرنے والوں کو حقیقت کا وہ پہلو بھی دکھا دیتی ہے جسے بڑے بڑے مہان ان دیکھا نہیں کر سکتے۔

(0)Comments

 

A note on cookies

Newshunt uses essential cookies to keep you signed in and to remember your language and country, so the site works the way you expect. With your permission, we'd also like to use analytics cookies to understand how people use Newshunt and improve it over time.

Accepting only affects analytics. To learn more, view our Privacy Policy or Terms & Conditions.