وزیر داخلہ ٹرائی کرتے ہیں نئی برائے صوبوں کے مسائل اور سیاست سے متعلق رائے

وزیر داخلہ ٹرائی کرتے ہیں نئی برائے صوبوں کے مسائل اور سیاست سے متعلق رائے
View on original source
Category: Politics
Share
Archive
Like
وزیرِ داخلہ طلال چوہدری نے نئے صوبوں پر عدم فیصلہ طاقت اور اس میں پیپلز پارٹی اور ہر جماعت کی محدودات پر کافی بارگاہ گارت کی اور خود پرچندی اور تحریک انصاف کے معاملات پر بھی گفتگو کی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپنے بات چیت میں سیاسی غلطیوں اور زبانِ رائے آزادی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس نئے صوبوں پر فیصلہ کرنے کا حق نہ ہے اور نہ ہی وہ اسے مسترد کرنے کا حق رکھتی ہے۔ انہوں نے اس کا تمسخر کرتے ہوئے کہا کہ 'کیا خوف ہے؟ ' اور بیانیہ نکالا کہ پاکستان میں حکومت کا تسلسل ہر جماعت سے بہتر ہے۔ نئے صوبوں کے معاملے میں طلال چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی بھی پارٹی اس طرح کے موضوع کو آسانی سے نہیں سواڑتی ۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جب نیا صوبہ بنانے کی قرارداد سامنے آئی تو اوّل وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف تھے، مگر اب پورا منظرنامہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ سندھ پر جو بیانیہ چل رہا ہے وہ نژاد و ذات کی ترجیحات کے حوالہ سے ہے، اور وہ کہہ رہے تھے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جہاں ملک کا تقسیم کا خیال شخصی طور پر عروج پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے وزیرِ داخلہ، نۓ لیگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے تعلقات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ بتایا کہ وزیرِ داخلہ کسی بھی رائے میں وزیراعظم کی ہدایت پر عمل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ کے لوگ نے عوامی پوائنٹ کو نظرانداز کیا ہے اور ہر نئے صوبہ بنانے کی بات پر بحث کا بوجھ بنا دیا ہے۔ انہوں نے ایک مثال پیش کی کہ جب کوئی برطرفِ حکمران نے نئی صوبہ بنانے کا اعلان کیا، تو اس کے بعد ایک طوفان آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ داخلہ نے اگر کوئی حق کنندہ آئی تو اس پر بنیادی بحث کی۔ پھر انہوں نے کسی کے کارکردگی پر تبصرہ کیا اور کہہٰے انہوں نے حتیٰ کہ اس پر بھی منفی کے طور پر تشخیص عمل پیغام بھی بھیجا۔ یہ محض ایک بےترتیبی نہیں، بلکہ مروجہ الیکشن میں ایک اہمیت پیدا کرتی ہے۔ دوسری طرف، انہوں نے تحریک انصاف سے متعلق بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے پیغام میں ایک شخص کو بیمار ہو کر علاج کرنا ہے اور ایک دوسرے کو صحت مند سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے پاس یہ نہیں تھا کہ وہ وفأی خدمات کی بنادگاری کا پِلیڈیٹ کر۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹی آئی کے سامنے کوئی سیدھی پیش رفت نہیں ہے اور کہ پاکستانی انتخابات کے دوران کسی بھی طرح کی نرم آواز کا سہارا بھی نہیں لیا گیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں اَڈیالا کے ۴۰۰۰ قیدی کے بارے میں بھی ایسی کہانی سُنائی، جس میں یہ مطلوب کیا گیا کہ وہ اگر صحت مند ہوتے تو مطآور نہیں ہوتے، ورنہ وہ قید کی تعریف میںشت کا نام لے کر چلے جاتے ہیں۔ تیسری بات، اُنہوں نے احتجاج کے مختلف تنازعات کو بھی ایک فہم سے دکھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے حملوں کی بات کی جائے تو ڈیل اور ڈھیل کے ساتھ سخت کارروائی ممکن ہے۔ اور جب اس 26 نومبر کی ابتداء ہوتی ہے تو یہ سخت کارروائی انجام پائے گی۔ آنے جانے کے تعلق سے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہماری دنیا میں آیا تو وہ آپ کے ساتھ جیتا جاتا ہے۔ عمومی طور پر، انہوں نے منظرنامے پر متعدد سجھا اور اپنی طاقت کے طور پر بھی مختلف سیاست کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سیاسی بدحالیوں کے لیے بصیرت کا کہنا بھی ایک پیش قدمی کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے عوامی رائے اور سیاسی رستے کو اس طرح سے ختم کرنے کی کوشش کی کہ وزیرِ داخلہ کے تنازعات کی بنیادی قید کا واضح وضع کارکردگی کو سمجھانے کے وسیلے پر تجارت کیجائیں۔ یہ کماوی ہے کہ اس طرح کی نئی طرح کے ریٹ آئرن اس طرح معقول تحقیق کریں کہ عوام کے لیے ممکن ہو، اور ٹیمہ چہرے میں توجہ ہو کی چت پارٹیانہ مظاہرے اور انگلیوں کے ساتھ

(0)Comments

 

A note on cookies

Newshunt uses essential cookies to keep you signed in and to remember your language and country, so the site works the way you expect. With your permission, we'd also like to use analytics cookies to understand how people use Newshunt and improve it over time.

Accepting only affects analytics. To learn more, view our Privacy Policy or Terms & Conditions.