ہزاروں سال پہلے انسان آئرلینڈ کیسے پہنچے؟ قدیم غاروں کی دریافت نے نیا راز کھول دیا

ہزاروں سال پہلے انسان آئرلینڈ کیسے پہنچے؟ قدیم غاروں کی دریافت نے نیا راز کھول دیا
View on original source
Category: SciTech
Share
Archive
Like
برفانی دور میں ویلز اور آئرلینڈ کے درمیان موجود 'گمشدہ زمینی راستے' کی کہانی سامنے آگئی۔ ہزاروں سال پہلے جب آج کا آئرلینڈ سمندر سے گھرا ایک جزیرہ تھا وہاں پہنچنے کے لیے انسانوں کو لازماً کشتی کا سہارا لینا پڑا ہوگا لیکن ایک نئی دریافت نے اس خیال کو بدلنے کا امکان پیدا کردیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟ محققین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر آئرلینڈ میں قدم رکھنے والے ابتدائی انسان موجودہ ویلز سے وہاں پہنچے تھے کیونکہ آخری برفانی دور کے دوران سمندر کی سطح کم ہونے سے دونوں خطوں کے درمیان ایک ایسا زمینی راستہ نمودار ہوگیا تھا جو آج موجود نہیں۔ جنوب مغربی آئرلینڈ کی 8 غاروں میں دریافت ہونے والے قدیم چٹانی فن کے نمونے کم از کم 15 ہزار سال پرانے بتائے جارہے ہیں۔ یہ دریافت آئرلینڈ میں انسانی موجودگی کے پہلے معلوم شواہد سے تقریباً 5 ہزار سال قدیم ہوسکتی ہے۔ یہ تحقیق 'لاسٹ لینڈ برج پروجیکٹ' کے تحت کی گئی جس کی قیادت لیورپول یونیورسٹی کے ماہرِ چٹانی فن ڈاکٹر جارج نیش نے کی۔ محققین کے مطابق آخری برفانی دور میں برف کی وسیع تہوں نے برطانوی جزائر کے بڑے حصے کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اس دوران سمندر کی سطح آج کے مقابلے میں بہت نیچے چلی گئی جس کے نتیجے میں موجودہ ویلز کے پیمبروکشائر اور آئرلینڈ کے جنوب مشرقی علاقے روسلیر کے درمیان ایک زمینی راستہ نمودار ہوا۔ یہ راستہ تقریباً 76 کلومیٹر چوڑا زمینی علاقہ تھا جہاں گھاس اور جنگلات موجود تھے۔ محققین کا خیال ہے کہ اس زمانے کے شکاری انسانوں کے لیے یہ راستہ انتہائی پرکشش ہوگا کیونکہ یہاں خوراک کی تلاش کے لیے جنگلی گھوڑے، میمتھ، بائسن اور قطبی ہرن جیسے بڑے جانور موجود تھے۔ ڈاکٹر جارج نیش کے مطابق انسانوں کے لیے اس قدرتی راستے کو استعمال نہ کرنا مشکل ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔ اس زمانے میں انسانوں کے پاس آج کی طرح گھر تعمیر کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں تھی اس لیے غار ان کے لیے پناہ گاہ کا اہم ذریعہ تھے۔ ڈاکٹر نیش کے مطابق موجودہ ویلز کے گَوَر جزیرہ نما میں ایک وقت میں تقریباً 100 غاریں انسانی رہائش کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ باہر کا ماحول شدید سرد ہوسکتا تھا لیکن غاروں کے اندر درجہ حرارت نسبتاً معتدل رہتا تھا۔ محققین کے مطابق وہاں سال بھر درجہ حرارت تقریباً 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا تھا جبکہ غار کے باہر سردی انتہائی شدید تھی۔ مزید پڑھیے: ایک گلوب پر امریکا تھا ہی نہیں، ویانا کا عجائب گھر انسانی علم کی دلچسپ داستان کیسے سناتا ہے؟ غار کے دہانے پر جلائی جانے والی آگ نہ صرف سردی سے بچانے میں مدد دیتی بلکہ شکاری جانوروں کو دور رکھنے کا ذریعہ بھی بنتی تھی۔ نیش کا کہنا ہے کہ ان غاروں پر قبضے کے لیے ابتدائی انسانی گروہوں کے درمیان مقابلہ بھی شدید رہا ہوگا اور آبادی بڑھنے کے ساتھ نئی جگہوں کی تلاش نے انہیں مزید دور جانے پر مجبور کیا ہوگا۔ اس دریافت کی خاص بات صرف قدیم چٹانی فن نہیں بلکہ اسے تلاش کرنے کا طریقہ بھی ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے جنوبی ویلز میں موجود قدیم غاروں کی خصوصیات، محل وقوع اور دیگر معلومات کو ایک کمپیوٹر الگورتھم میں شامل کیا اور پھر اسے آئرلینڈ میں اسی طرح کے ممکنہ غار تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہاں مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر پر مبنی نقشہ سازی نے ماہرین کو ایسی جگہوں تک پہنچنے میں مدد دی جنہیں شاید روایتی طریقوں سے تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا۔ کمپیوٹر ماڈل نے جنوب مغربی آئرلینڈ میں 28 ممکنہ غاروں کی نشاندہی کی۔ ماہرین نے ان تمام مقامات کا جائزہ لیا اور ان میں سے 8 میں قدیم چٹانی فن کے شواہد ملے۔ محققین کو ان غاروں میں مختلف انداز کا قدیم فن ملا ہے۔ کہیں چٹانوں پر جانوروں کی شکلیں کندہ کی گئی ہیں اور کہیں سرخ مٹی یعنی اوکر اور کوئلے سے بنائی گئی تصویریں موجود ہیں جبکہ بعض مقامات پر نرم مٹی اور غار کی سطح پر انگلیوں سے لکیریں اور نقش بنائے گئے ہیں۔ مزید پڑھیں: 'کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی': قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار ایک نقش میں ہرن سے مشابہ جانور کے سر، گردن اور جسم کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک اور مقام پر محققین نے ایسی تصویر دیکھی ہے جسے ڈاکٹر نیش ممکنہ طور پر میمتھ کی شکل سمجھتے ہیں۔ بعض انتہائی سادہ لکیریں شاید گنتی یا کسی ابتدائی علامتی نظام کا حصہ رہی ہوں جبکہ بعد کی تصاویر میں انسانوں کے اردگرد موجود دنیا خاص طور پر جانوروں کو زیادہ واضح انداز میں دکھانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ دریافت ہونے والی چٹانی فن کی کچھ مثالیں خاص طور پر دلچسپ ہیں۔ غار کی نرم سطح پر انگلیوں سے بنائی گئی کچھ لکیریں اور نیم دائرے ایسے ہیں جو آج کے دور میں بچوں کی بنائی ہوئی سادہ تصویروں جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ ممکن ہے یہ ابتدائی انسانوں کے بچوں کی جانب سے بنائے گئے نقش ہوں جو اس زمانے میں فن کے اظہار سے ان کے ابتدائی تعلق کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ابھی اس سوال کا حتمی جواب نہیں دیا جاسکتا۔ محققین کے پاس موجود شواہد یہ بتاتے ہیں کہ آخری برفانی دور میں ویلز میں انسان آباد تھے اور آئرلینڈ تک پہنچنے کے لیے ایک قدرتی زمینی راستہ بھی موجود تھا۔ نئے دریافت شدہ غاروں میں کم از کم 15 ہزار سال پرانے فن کے آثار اس امکان کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نیش کے مطابق جنوبی ویلز میں انسان تقریباً 35 سے 40 ہزار سال پہلے آباد ہوچکے تھے اور وقت کے ساتھ ان کی آبادی، نقل و حرکت اور جانوروں کے نقل مکانی کے راستوں سے واقفیت میں اضافہ ہوا۔ ان کے خیال میں آبادی بڑھنے اور وسائل پر دباؤ نے ان انسانوں کو مزید مغرب اور شمال کی طرف جانے پر مجبور کیا ہوگا۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے ان غاروں کے درست مقامات ظاہر نہیں کیے کیونکہ خدشہ ہے کہ قیمتی آثار کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے یا انہیں لوٹ لیا جائے گا۔ محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی صرف جنوب مغربی آئرلینڈ کے چند علاقوں کا جائزہ لیا ہے اس لیے یہ تصور کرنا منطقی نہیں کہ ابتدائی انسان نے موجودہ ویکسفورڈ، واٹر فورڈ اور کارک کے علاقوں کو بالکل نظر انداز کردیا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں بھی مزید اور شاید اس سے کہیں زیادہ قدیم انسانی آثار موجود ہوسکتے ہیں۔ اور یہی اس دریافت کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔ ممکن ہے آج ہم جن علاقوں کو صرف نقشے پر سمندر کے 2 کناروں کے طور پر دیکھتے ہیں، ہزاروں سال پہلے وہاں انسان برفانی موسم، جنگلی جانوروں اور نامعلوم خطرات کے درمیان پیدل سفر کرتے ہوئے ایک نئی دنیا کی تلاش میں نکلتے تھے۔ یہ بھی پڑھیے: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟ ایک غار کی دیوار پر بنی چند لکیریں آج ہمیں ان انسانوں کی زندگی کی پوری کہانی تو نہیں بتاتیں لیکن شاید یہ ضرور بتاتی ہیں کہ ہزاروں سال پہلے بھی انسان نامعلوم راستوں پر چلنے، نئی جگہیں تلاش کرنے اور اپنے پیچھے کوئی نشان چھوڑ جانے کی خواہش رکھتا تھا۔ آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا 'آفیشل گروپ' یا 'آفیشل چینل' جوائن کریں آزاد کشمیر: 3 الیکشن ہارنے کے باوجود وزارت تک پہنچنے والے سیاسی رہنما کون ہیں؟ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے 4 اے آئی کمپنیوں کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا 'چھٹیوں پر ہوں': مریم نواز کا صوبوں کی تقسیم سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز

(0)Comments

 

A note on cookies

Newshunt uses essential cookies to keep you signed in and to remember your language and country, so the site works the way you expect. With your permission, we'd also like to use analytics cookies to understand how people use Newshunt and improve it over time.

Accepting only affects analytics. To learn more, view our Privacy Policy or Terms & Conditions.