آسٹریا میں اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد

آسٹریا میں اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد
View on original source
Category: Politics
Share
Archive
Like
وینا ۔ 7 ستمبر (ایجنسیز) آسٹریا میں اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی 14 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں روایتی مسلم طرز کے سر ڈھانپنے والے لباس، جن میں حجاب اور برقع شامل ہیں، پہننے پر پابندی ہو گی۔ نئے قانون کے تحت اگر اساتذہ کسی طالبہ کو حجاب پہنے ہوئے دیکھیں گے تو انہیں پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے طالبہ اور اس کے قانونی سرپرستوں کے ساتھ کئی مراحل میں بات چیت کرنا ہو گی۔ خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بچوں کی بہبود سے متعلق خدمات کو مطلع کرنا ہو گا، جبکہ آخری اقدام کے طور پر سرپرستوں پر 800 یورو (685 پاؤنڈ) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ قدامت پسند آسٹرین پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی وزیرِ انضمام کلاڈیا باؤر کا کہنا ہے کہ حجاب جبر کی علامت اور بچپن ہی سے بچیوں کو قابو میں رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیا قانون ملک میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہا ہے جو ممکنہ طور پر آئین سے متصادم ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ یہ قانون تین معتدل جماعتوں پر مشتمل قدامت پسند قیادت والے اتحاد نے متعارف کرایا ہے، جس میں آسٹرین پیپلز پارٹی، سوشل ڈیموکریٹس اور لبرل جماعت نیوس شامل ہیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون صنفی مساوات کے لیے واضح عزم کا اظہار ہے اور اس کا مقصد کم عمر بچیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

(0)Comments

 

A note on cookies

Newshunt uses essential cookies to keep you signed in and to remember your language and country, so the site works the way you expect. With your permission, we'd also like to use analytics cookies to understand how people use Newshunt and improve it over time.

Accepting only affects analytics. To learn more, view our Privacy Policy or Terms & Conditions.