حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جوابی کارروائی، یمن میں متعدد ٹھکانوں پر حملے

حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جوابی کارروائی، یمن میں متعدد ٹھکانوں پر حملے
View on original source
Category: Politics
Share
Archive
Like
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حملوں کے بعد سعودی عرب نے یمن میں جوابی کارروائی کی ہے۔ حوثیوں کے مطابق سعودی فضائی حملوں میں تعز اور مآرب کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر ان حملوں پر کوئی بیان نہیں دیا۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور دیگر مقامات پرحملوںکے بعد سعودی عرب نے یمن میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں پر حملے کیے ہیں۔ حوثی تنظیم کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی حملوں میں تعز اور مآرب صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں کئی روز سے شدید لڑائی جاری ہے۔ سعودی عرب میں حوثیوں کے حالیہ حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جب کہ حکام کے مطابق تیل تنصیبات سمیت توانائی کے بعض مراکز میں آگ بھڑک اٹھی اور کچھ مقامات پر کارروائیاں عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں۔ سعودی حکام نے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ابہا اور جازان میں واقع تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ملک کے جنوبی حصے میں توانائی کے شعبے سے متعلق متعدد تنصیبات اور مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث مختلف مقامات پر آگ لگ گئی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے پیر کو الجوف صوبے کے دارالحکومت الحزم میں ایک جیل کو نشانہ بنایا تھا، جس میں 11 افراد ہلاک اور 20 قیدی لاپتا ہوگئے تھے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تازہ حملوں نے یمن میں جاری بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، جہاں گزشتہ چند روز کے دوران لڑائی میں سیکڑوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حوثی بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع باب المندب آبنائے کے قریب مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ باب المندب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد ناکا بندی کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کا راستہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم سعودی عرب اپنے دفاع اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امن اور سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے، لیکن اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یمن میں موجودہ لڑائی جولائی میں چار سالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کرگئی تھی۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث علاقائی تنازع مزید پھیلنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ خلیجی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ کے مطابق حوثیوں کے حملوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کردی ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب کئی برس سے یمن کی جنگ سے نکلنے کی کوشش کررہا تھا، تاہم حملوں کا جواب نہ دینا حوثیوں کو کشیدگی بڑھانے کا موقع دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی فوری جوابی کارروائی محدود رہنے کا امکان ہے، تاہم اگر سعودی شہروں پر حملے جاری رہے تو ریاض کے لیے تحمل برقرار رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔ عالمی منڈی میں بھی یمن اور خطے کی بڑھتی کشیدگی کے اثرات سامنے آئے ہیں اور سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کیقیمتیں100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

(0)Comments

 

A note on cookies

Newshunt uses essential cookies to keep you signed in and to remember your language and country, so the site works the way you expect. With your permission, we'd also like to use analytics cookies to understand how people use Newshunt and improve it over time.

Accepting only affects analytics. To learn more, view our Privacy Policy or Terms & Conditions.