سجاد لون نے ریاستی حیثیت کی قرارداد کا کیا دفاع، 1947 کے وعدوں کی یاد دلائی

سجاد لون نے ریاستی حیثیت کی قرارداد کا کیا دفاع، 1947 کے وعدوں کی یاد دلائی
View on original source
Category: Politics
Share
Archive
Like
سرینگر: پیپلز کانفرنس (پی سی)کے سربراہ اور ہندوارہ کے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے جمعہ کو جموں و کشمیر اسمبلی کی اُس قرارداد کا دفاع کیا جس میں مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ آئینی تعلقات کو 1947 میں الحاق کے وقت کیے گئے وعدوں اور سیاسی انتظامات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ سجاد لون کا یہ بیان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اسمبلی میں پیش کی گئی قراردار کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں جموں و کشمیر کی "فوری اور ہنگامی بنیادوں پر" مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں 2000 اور 2024 میں اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی سابقہ قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سال2000 میں اُس وقت کی جموں کشمیر اسمبلی کی جانب سے پاس کی گئی خودمختاری کی قراردار کے حوالہ سے بی جے پی ارکان نے سخت اعتراض کیا۔ بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں آئے اور نعرے بازی کی۔ انہوں نے قرارداد کی نقول بھی پھاڑ دیں۔ ہنگامے کے بعد اسپیکر نے کارروائی 30 منٹ کے لیے ملتوی کردی۔ مختصراً بحالی کے بعد اسپیکر نے پیر تک کے لیے ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی۔ بی جے پی کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی بحث کو اُن تاریخی حالات سے الگ نہیں کیا جاسکتا جن کے تحت جموں و کشمیر بھارت کا حصہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں کیے گئے وعدے جموں و کشمیر اور بھارت کے درمیان سیاسی تعلقات کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ سجاد لون نے اسمبلی کے باہر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: "جموں و کشمیر 1947 کے واقعات کی وجہ سے بھارت کا حصہ ہے۔ 1947 میں ہم سے وعدے کیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے ہم یہاں ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کو حکومت کی جانب سے کسی سیاسی مہربانی یا رعایت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ سجاد لون نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور اسے "بہت برا اقدام" قرار دیا۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجہ "ضد" اور "نفرت" کو قرار دیا۔ سال2019 میں مرکز کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 نافذ کرنے کے بعد جموں و کشمیر کو ریاست سے گھٹا کر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کردیا گیا تھا، جبکہ لداخ کو جموں کشمیر کے علیحدہ کرکے ایک الگ یونین ٹیریٹری بنائی گئی تھی۔ سجاد لون نے کہا کہ الحاق کے بعد وجود میں آنے والے سیاسی انتظامات، جن میں خودمختاری کا فریم ورک اور بعد کی آئینی تبدیلیاں شامل ہیں، تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ "بی جے پی کیا جانتی ہے؟ وہ تو کل ہی آئے ہیں۔ آپ کو 1947 کی بات کرنی چاہیے۔" ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی نے خاص طور پر نئی ریاستی حیثیت کی قرارداد میں 2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد کے حوالہ پر اعتراض کیا۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن 2000 کی خودمختاری کی قرارداد اور آرٹیکل 370 کو بحث کا حصہ بنانے کی مخالفت کرتی ہے۔ شرما نے سوال اٹھایا کہ نئی قرارداد میں پرانی خودمختاری کی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔ سال2000 کی قرارداد اُس وقت ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے دور میں جموں و کشمیر اسمبلی نے منظور کی تھی، جس میں خودمختاری کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ موجودہ قرارداد میں 6 نومبر 2024 کو اسمبلی کی جانب سے خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق منظور کی گئی قرارداد کا بھی حوالہ ہے۔ تاہم، سجاد لون نے کہا کہ تاریخی اور آئینی پس منظر ریاستی حیثیت کی بحث کے لیے اب بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحاق سے جڑے وعدے اور اس کے بعد قائم ہونے والے آئینی انتظامات اُس سیاسی سمجھوتے کا حصہ تھے جس کے ذریعے جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ تعلقات آگے بڑھے۔ اسمبلی میں ہونے والے ہنگامے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں کچھ بھی ملک مخالف نہیں ہے اور بی جے پی سے کہا کہ وہ قرارداد میں ایسی کسی زبان کی نشاندہی کرے۔ قبل ازیں، عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ 2000 کی خودمختاری کی قرارداد سے الگ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قرارداد کا مقصد مرکز سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کی اپیل کرنا ہے اور اسے اسمبلی میں بحث کے لیے پیش ہونے دینا چاہیے تھا۔ وزیر اعلیٰ نے بی جے پی ارکان سے ریاستی حیثیت کے معاملے پر اپنا واضح موقف سامنے لانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ قرارداد پر اسمبلی میں بحث اور ووٹنگ ہونی چاہیے۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت کرتی ہے، تاہم اس معاملے کو خودمختاری اور آرٹیکل 370 کے ساتھ جوڑنے کی مخالفت کرتی ہے۔ جب سجاد لون سے عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ فوری توجہ اسمبلی میں قرارداد منظور کرانے پر ہونی چاہیے۔ "قانونی راستہ بعد میں دیکھیں گے، پہلے یہاں قرارداد منظور کرانے پر توجہ دیتے ہیں۔" یہ بھی پڑھیں:

(0)Comments

 

A note on cookies

Newshunt uses essential cookies to keep you signed in and to remember your language and country, so the site works the way you expect. With your permission, we'd also like to use analytics cookies to understand how people use Newshunt and improve it over time.

Accepting only affects analytics. To learn more, view our Privacy Policy or Terms & Conditions.